کراچی میں سڑکیں ٹھیک نہیں لیکن بھاری ای چالان کیے جارہے ہیں، حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
کراچی:
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ کراچی میں قبضے کی سیاست جاری ہے، 17 سال میں پیپلز پارٹی نے کراچی کیلئے کچھ نہیں کیا، 400 بسیں لاکر بے وقوف بنایا جارہا ہے، سڑکیں ٹھیک نہیں اور بھاری ای چالان کیے جارہے ہیں۔
ٹاؤن میونسپل کارپوریشن نارتھ ناظم آباد کے تحت بارہ دری پارک بلاک اے میں ترقیاتی منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لاہور میں چالان 200 روپے اور کراچی میں 5 ہزار روپے ہے، کراچی میں قبضے کی سیاست جاری ہے، گاؤں اور دیہات پر قبضے کے بعد شہروں پر قبضہ کیا جارہا ہے۔
پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو کڑی تنقید کر نشانہ بناتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنے ٹاؤنز میں اختیارات سے بڑھ کر کام کررہی ہے، سیوریج اور کچرے کا کام بھی ٹاؤن کررہا ہے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے پاس گھر سے کچرا اٹھا کر لینڈ فیلڈ سائیٹ تک پہنچانے کا پورا میکنزم موجود ہے، گھر سے جو کچرا اٹھایا جاتا ہے اس کے پیسے لوگ خود ادا کرتے ہیں، کچرا اٹھانے کا اختیار بھی سندھ حکومت کے پاس ہے، ابھی تک پیپلزپارٹی نے ٹاؤن کو اختیارات منتقل نہیں کئے۔
انہوں نے کہا کہ سٹی وارڈنز کو استعمال کرکے کام میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں، ٹاؤنز کو کام کرنے سے روکا جارہا ہے، کراچی کے بڑے منصوبے 12 سے 15 سال تاخیر کا شکار ہیں، پیپلزپارٹی نے دھاندلی کرکے اپنا مئیر بنایا، بلدیاتی انتخابات میں پیپلزپارٹی کی سیٹیوں میں من پسند حلقہ بندیوں کی وجہ سے اضافہ ہوا، بلدیاتی انتخابات جیت کرلوگ کہتے تھے اختیارات ملیں گے نہیں تو کام کیسے کریں گے، نارتھ ناظم آباد کے ٹاؤن چیئرمین کومبارک باد پیش کرتا ہوں مشکل وقت میں بہترین منصوبہ بندی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم کراچی میں
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.