پہلا ون ڈے: پاکستان اور جنوبی افریقا کی ٹیمیں آج آمنے سامنے ہوں گی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیصل آباد میں 17 سال کے طویل انتظار کے بعد ایک بار پھر انٹرنیشنل کرکٹ کی بہار لوٹ آئی ہے۔ تاریخی اقبال اسٹیڈیم آج ایک بار پھر جگمگا اٹھے گا، جہاں پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں پہلے ایک روزہ میچ میں آمنے سامنے ہوں گی۔
اس میچ کی خاص بات یہ ہے کہ قومی فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی پہلی بار پاکستان ون ڈے ٹیم کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے اس موقع کو اپنے کیریئر کا بڑا اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پوری کوشش کریں گے کہ ٹیم کو کامیابی دلائیں۔ شاہین آفریدی نے مزید کہا کہ بابر اعظم کا فارم میں واپس آنا ٹیم کے لیے نہایت خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے۔
میچ سے قبل سیریز کی ٹرافی کی رونمائی کی گئی، جس کے بعد دونوں ٹیموں نے بھرپور نیٹ پریکٹس سیشنز میں حصہ لیا۔ کرکٹ شائقین بڑی تعداد میں اسٹیڈیم کا رخ کرنے کی تیاری میں ہیں۔
یاد رہے کہ اقبال اسٹیڈیم میں آخری بین الاقوامی میچ 2008 میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کھیلا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔