نواز شریف کے نامزد امیدواروں کی کامیابی واضح ہے، حاجی اصغر علی باجوہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیصل آباد(آ ئی این پی)شیر پر مہر لگاؤ رانا احمد شہریار کو کامیاب بناؤ کا نعرہ عوامی پذیرائی حاصل کر چکا ہے 23 نومبر کو پی پی 116 میں آزاد امیدوار ذلت امیز ناکامی سے دوچار ہوں گے پاکستان مسلم لیگ ن کے نامزد امیدوار پی پی 116 رانا احمد شہریار خاں کی ان شاء اللہ شاندار فتح سے مخالفین بوکلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں 23 نومبر کی صبح کا سورج رانا احمد شہریار خان کی شاندار کامیابی کی نوید لے کر طلوع ہوگا آزاد امیدوار ضمنی انتخاب میں رانا احمد شہریار کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے چاہے پی ٹی آئی کا سہارا لیں یا پیپلز پارٹی کا دامن تھامے ان شاء اللہ فتح رانا ثنا اللہ ہی کی ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ نون کے تاجر رہنماؤں حاجی اصغر علی باجوہ صدر میاں اصف اسلم نے پی پی 116 کی یونین کونسل 120 محلہ ہرچن پورہ نمبر 2 قاسم اباد کوٹھیاں والی گلی پرتاب نگر اور باغ کالونی بٹھا نمبر دو اسلام پورہ کچی ابادی کے ووٹروں سپورٹروں سے انتخابی کمپین کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا تاجر لیڈروں حاجی اصغر علی باجوہ میاں اصف اسلم نے کہا کہ نواز شریف کے نامزد امیدواروں کی کامیابی واضح ہے آزاد امیدوار اپنی شکست تسلیم کر لیں پنجاب حکومت نے پونے دو سالوں میں 90 فیصد سے زائد عوامی منصوبے مکمل کیے اور ائندہ بھی عوامی تعمیر و ترقی اور قومی خوشحالی کے لیے مسلم لیگ نون میدان عمل میں اپنے مخالفین کو عبرت ناک شکست سے دوچار کرے گی امیدوار پی پی 116 رانا احمد شہریار خان نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور عوامی وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں عوامی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں گے ان شاء اللہ کامیابی کے بعد فخر پنجاب رانا ثنا اللہ خان کی قیادت میں اپنے حلقہ انتخاب کی ہر یونین کونسل کی عوام کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنائیں گے ضمنی الیکشن میں آزاد امیدوار مسلم لیگ نون کا نہ تو کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ ہی عوام کو ورغلا سکتے ہیں 23 نومبر کو میاں نواز شریف کے نامزد امیدواروں کی کامیابی واضح ہے آزاد امیدوار اپنی شکست کو تسلیم کر لیں۔ رانا احمد شہریار خان نے کہا کہ عوامی مسائل کا فوری و شفاف حل اولین ترجیح ہے اور ہم اپنی عوام کو ہرگز مایوس نہیں کریں گے تاجر لیڈر غلہ منڈی حاجی اصغر علی باجوہ صدر میاں اصف اسلم نے کہا کہ حلقے کی عوام کی جانب سے رانا ثنا اللہ خان پر اعتماد اور رانا احمد شہریار خان کی مقبولیت میں روز بروز ہونے والے اضافے نے مخالفین کی نیند حرام کر دی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رانا احمد شہریار خان حاجی اصغر علی باجوہ کے نامزد امیدوار ا زاد امیدوار نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ پی پی 116
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔