گورنر سندھ کامران ٹیسوری سے جعفرطیار سوسائٹی کے رہائشیوں کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
ملاقات کے دوران کامران خان ٹیسوری نے رہائشیوں کے مطالبات اور مسائل کو غور سے سنا اور متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کرنے کی سخت ہدایات جاری کیں اور کہا کہ عوامی مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ بہت جلد وفاق کے تحت جاری فنڈز کے ذریعے PIDCL انفراسٹرکچر کی تعمیر و بحالی کا کام شروع کرے گا، جس سے علاقے کے بنیادی مسائل میں نمایاں بہتری آئے گی۔ یہ بات انہوں نے جعفر طیار سوسائٹی کے رہائشیوں سے گورنر ہاؤس کراچی میں ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں علاقے کے دیرینہ مسائل، انفراسٹرکچر کی صورتحال، پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی اور دیگر عوامی سہولیات سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
گورنر سندھ نے رہائشیوں کے مطالبات اور مسائل کو غور سے سنا اور متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کرنے کی سخت ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی خدمت، سہولیات کی فراہمی اور مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں، عوام کا تعاون اور اعتماد ہمارے لیے باعثِ حوصلہ ہے اور ہم کراچی کے ہر علاقے میں بہتری لانے کے لیے پرعزم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔