خاتم الانبیاء تبلیغی مرکز کیجانب سے منعقدہ محفل قرآن میں خصوصی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
اس تقریب میں سندھ بھر کے معزز علماء کرام بھی موجود تھے، جس میں استاد العلماء علامہ سید ارشاد حسین نقوی، صوبائی صدر شیعہ علماء کونسل پاکستان سندھ علامہ سید اسد اقبال زیدی، علامہ انصار الثقلین و دیگر شیعہ، سنی علماء کرام نے تفصیلی خطاب کیا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی خیرپور میرس میں خاتم الانبیاء تبلیغی مرکز کیجانب سے منعقدہ محفل قرآن میں خصوصی شرکت
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی خیرپور میرس میں خاتم الانبیاء تبلیغی مرکز کیجانب سے منعقدہ محفل قرآن میں خصوصی شرکت
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی خیرپور میرس میں خاتم الانبیاء تبلیغی مرکز کیجانب سے منعقدہ محفل قرآن میں خصوصی شرکت
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی خیرپور میرس میں خاتم الانبیاء تبلیغی مرکز کیجانب سے منعقدہ محفل قرآن میں خصوصی شرکت
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی خیرپور میرس میں خاتم الانبیاء تبلیغی مرکز کیجانب سے منعقدہ محفل قرآن میں خصوصی شرکت
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی خیرپور میرس میں خاتم الانبیاء تبلیغی مرکز کیجانب سے منعقدہ محفل قرآن میں خصوصی شرکت
علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی خیرپور میرس میں خاتم الانبیاء تبلیغی مرکز کیجانب سے منعقدہ محفل قرآن میں خصوصی شرکت
اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے خیر پور میرس میں خاتم الانبیاء تبلیغی مرکز کی جانب سے منعقدہ محفل قرآن میں شرکت کی اور فہم القرآن کے موضوع سمیت ملکی و بین الاقوامی صورتحال پر تفصیلی خطاب کیا۔ اس تقریب میں سندھ بھر کے معزز علماء کرام بھی موجود تھے، جس میں استاد العلماء علامہ سید ارشاد حسین نقوی، صوبائی صدر شیعہ علماء کونسل پاکستان سندھ علامہ سید اسد اقبال زیدی، علامہ انصار الثقلین و دیگر شیعہ، سنی علماء کرام نے تفصیلی خطاب کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل کے ہمراہ زہرا (س) اکیڈمی کے فلاحی امور کے انچارج جناب سہیل رضا صالحی، مولانا رفیق مہدی اور جناب رفعت عباس زیدی بھی موجود تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علماء کرام علامہ سید
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔