کراچی: نیپا چورنگی سے وفاقی اردو یونیورسٹی تک روڈ 10 نومبر سے 30 دسمبر تک بند رہے گا
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
فوٹو: اسکرین گریب
کراچی میں نیپا چورنگی سے وفاقی اردو یونیورسٹی تک روڈ 10 نومبر سے 30 دسمبر تک بند رہے گا۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروگرام (کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی) حکام کا کہنا ہے کہ روڈ بندش کی وجہ کے فور منصوبے کے تحت پانی کی لائن بچھانا ہے۔
کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی حکام کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی روڈ پر 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر پانی کی لائن ڈالی جا رہی ہے، آگمینٹیشن پلان کے پہلے مرحلے میں نیپا چورنگی سے وفاقی اردو یونیورسٹی تک لائن بچھانے کا کام ہوگا۔
دوسرے مرحلے میں حسن اسکوائر سے نیپا چورنگی تک کام کیا جائے گا، کے فور فراہمی آب منصوبے کے ترقیاتی کام کے دوران 96 انچ اور72 انچ کی لائن ڈالی جائیں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی لائنیں بچھانے کے لیے 30 دسمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے، ترقیاتی کام کے دوران ٹریفک کو نیپا چورنگی سے الہ دین پارک کی طرف بھیجا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کی لائن
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔