کراچی میں لائن لاسز کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کیخلاف جماعت اسلامی کی درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے شہر قائد میں لائن لاسز کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کے خلاف امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔سندھ ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ لائن لاسز کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ غیر قانونی ہے، شہر میں طویل لوڈ شیڈنگ سے معاملات زندگی متاثر ہوتے ہیں۔سندھ ہائیکورٹ نے امیر جماعت اسلامی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے لوڈشیڈنگ سے متعلق معاملہ نیپرا کو بھیجنے کی ہدایت کر دی۔عدالت نے کہا کہ نیپرا شکایت پر ایک ماہ میں فیصلہ کرکے ایم آئی ٹی 2 میں رپورٹ جمع کروائے۔سندھ ہائیکورٹ نے کہا مشاہدہ کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق لوڈشیڈنگ سے متعلق درخواست قابل سماعت نہیں، نیپرا ایکٹ کے سیکشن 39 کے تحت درخواست گزار کے پاس نیپرا سے رجوع کرنے کا آپشن موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سندھ ہائیکورٹ
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔