data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ میںملیر کینٹ بازار کی دکانیں غیر قانونی طور پر سیل کرنے کے خلاف شہری کی درخواست،آئندہ سماعت کے لیے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور فریقین کو نوٹس جاری کردیے گئے ۔سندھ ہائیکورٹ میں ملیر کینٹ بازار کی دکانیں غیر قانونی طور پر سیل کرنے کے خلاف شہری کی درخواست ہوئی جہاں جسٹس فیصل کمال نے دوران سماعت ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کے خلاف فی الحال کسی قسم کی کاروائی نا کی جائے، آئندہ سماعت کے لیے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا عدالت کاکہنا تھا کہ درخواست گزار این او سی حاصل کرنے کے لیے تمام دستاویزات کو مکمل کریں۔ درخواست گزار کاکہنا تھا کہ این او سی کے لیے دفتر جانا ہوا تو ہمیں این او سی دینے سے منع کردیا گیا۔ دوسرے دن فریق نے اپنے دفتر بلا کر دھمکیاں دی اور کرایہ بڑھانے کا کہاگیا،درخواست گزار نے فریقین کو بتایا کہ وہ سنئیر سٹیزن ہیں اور پچھلے چالیس پچاس سال سے دکان چلا رہے ہیں، فریقین نے درخواست گزار کی ایک بات نا سنی اور دکان فوری طور پر خالی کرنے کو کہا، درخواست میں وفاق، سی ای او ملیر کینٹ اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،فریقین کی جانب سے دکانوں کو سیل کرنے کے لئیے نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: درخواست گزار فریقین کو کرنے کے کے لیے

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر