Express News:
2026-07-24@03:17:06 GMT

پی ٹی آئی ایم این اے کو بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی

اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT

پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے ایم این اے ارباب شیر علی کا نام ای سی ایل سے نکالنے اور انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ٹی آئی رہنما ممبر قومی اسمبلی ارباب شیر علی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی جو کہ جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس انعام اللہ خان نے کی۔

وکیل درخواست گزار معظم بٹ ایڈووکیٹ نے کہا کہ درخواست گزار ممبر قومی اسمبلی ہے اس کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا ہے، درخواست گزار کلائمیٹ چینج کنونشن میں شرکت کے لیے برازیل جارہے ہیں مگر نام ای سی ایل میں ہونے کی وجہ سے درخواست گزار بیرونی ملک سفر نہیں کرسکتے، برازیل میں کنونشن 10 تا 15 نومبر ہے، درخواست گزار کنونشن میں شرکت کرکے واپس آجائیں گے۔

عدالت نے پی ٹی آئی رہنما ارباب شیر علی کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے کہا کہ آپ بیرون ملک جائیں اور واپس آجائیں، مچلکے جمع کرادیں۔ 

عدالت نے وزارت داخلہ اور دیگر فریقین سے دو دسمبر کو آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: درخواست گزار پی ٹی آئی سی ایل نام ای

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ