اسلام آباد ہائیکورٹ نے سرگودھا ضمنی الیکشن روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 73 سرگودھا میں ضمنی الیکشن روکنے سے متعلق درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
درخواست پاسبان وطن پاکستان پارٹی کے سربراہ شیخ مختار کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روکا گیا۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ ان کے مؤکل نے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی کوشش کی، مگر الیکشن کمیشن نے اجازت نہیں دی۔ حلقے میں ستمبر میں آنے والے سیلاب کے باعث ضمنی الیکشن ملتوی ہوا تھا، لیکن نئے انتخابی شیڈول کے اعلان پر امیدوار کو دوبارہ کاغذات جمع کرانے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ حلقے کی نشست کیوں خالی ہوئی؟ جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے وضاحت دی کہ پی پی 73 سے پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ اسمبلی انصر اقبال ہرل کو 9 مئی کے واقعات میں سزا کے باعث نااہل قرار دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں نشست خالی ہوئی۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری ہوچکا ہے، انتخابی نشان الاٹ کیے جا چکے ہیں اور بیلٹ پیپرز کی چھپائی بھی مکمل ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق انتخابی عمل کے اس مرحلے پر کسی ایک فرد کی درخواست پر الیکشن روکنا نہ صرف غیر عملی بلکہ قانونی طور پر نامناسب ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاسبان وطن پارٹی 20 اکتوبر کو رجسٹرڈ ہوئی، جب کہ اگر یہ 13 اکتوبر تک رجسٹرڈ ہو جاتی تو امیدوار کو انتخاب میں حصہ لینے کا حق حاصل ہوتا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ اب بہتر یہ ہے کہ درخواست گزار آئندہ الیکشن کا انتظار کریں، کیونکہ اس وقت انتخابی عمل کو روکنا وقت اور وسائل دونوں کا ضیاع ہوگا۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، جو آئندہ چند روز میں سنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔