تھائی لینڈ میں جاری مس یونیورس کے لیے مقابلۂ حسن تنازع کا شکار ہوگیا جس پر مقابلے میں شریک حسیناؤں نے شدید احتجاج کیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تھائی لینڈ کے مقابلہ مس یونیورس کی ایک تقریب میں اُس وقت ماحول گرم ہوگیا جب ایونٹ کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ناوت اِتسر گریسل نے مس میکسیکو فاطمہ بوش کو سب کے سامنے ڈمی کہہ دیا۔

اس پر جب فاطمہ بوش نے وضاحت کرنے کی کوشش کی تو ایگزیکیٹو ڈائریکٹر نے سیکیورٹی بلوا کر مس میکسیکو کو طاقت کے ذریعے چپ کروانے کی کوشش کی۔

فاطمہ بوش نے دو ٹوک انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ ایک عورت کو کس طرح عزت دینی چاہیے اور وہ بھی وہ عورت جو اپنے ملک کی نمائندگی کر رہی ہو۔

یہ سنتے ہی تقریب میں موجود دیگر حسینائیں جن میں موجودہ مس یونیورس وکٹوریا کیر تھیلویگ بھی شامل تھیں۔ فاطمہ بوش کے حق میں اٹھ کھڑی ہوئیں۔

دنیا بھر سے آنے والے مقابلہ حسن کی امیدواروں نے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ناوت اِتسر گریسل کے رویے کے خلاف مشترکہ طور پر تقریب سے واک آؤٹ کیا۔

اس سارے معاملے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی تنقید کا طوفان امڈ آیا اور مقابلہ مس یونیورس کے صدر راؤل روچا کانتو کو نوٹس لینا پڑا۔

انھوں نے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر اِتسر گریسل کے رویے کو توہین آمیز اور خوفزدہ کرنے والا قرار دے کر انہیں مقابلے کے انتظامات سے ہٹا دیا اور نئے سی ای او ماریو بوکارو کو تھائی لینڈ بھیجا ہے۔

واضح رہے کہ مس یونیورس 2025 کا فائنل 20 نومبر کو ہوگا اور دنیا منتظر ہے کہ اب تاج کس کے سر سجتا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مس یونیورس فاطمہ بوش

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے