ناروا سلوک پر مقابلۂ مس یونیورس میں شریک حسیناؤں کا واک آؤٹ اور شدید احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
تھائی لینڈ میں جاری مس یونیورس کے لیے مقابلۂ حسن تنازع کا شکار ہوگیا جس پر مقابلے میں شریک حسیناؤں نے شدید احتجاج کیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تھائی لینڈ کے مقابلہ مس یونیورس کی ایک تقریب میں اُس وقت ماحول گرم ہوگیا جب ایونٹ کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ناوت اِتسر گریسل نے مس میکسیکو فاطمہ بوش کو سب کے سامنے ڈمی کہہ دیا۔
اس پر جب فاطمہ بوش نے وضاحت کرنے کی کوشش کی تو ایگزیکیٹو ڈائریکٹر نے سیکیورٹی بلوا کر مس میکسیکو کو طاقت کے ذریعے چپ کروانے کی کوشش کی۔
فاطمہ بوش نے دو ٹوک انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ ایک عورت کو کس طرح عزت دینی چاہیے اور وہ بھی وہ عورت جو اپنے ملک کی نمائندگی کر رہی ہو۔
یہ سنتے ہی تقریب میں موجود دیگر حسینائیں جن میں موجودہ مس یونیورس وکٹوریا کیر تھیلویگ بھی شامل تھیں۔ فاطمہ بوش کے حق میں اٹھ کھڑی ہوئیں۔
دنیا بھر سے آنے والے مقابلہ حسن کی امیدواروں نے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ناوت اِتسر گریسل کے رویے کے خلاف مشترکہ طور پر تقریب سے واک آؤٹ کیا۔
اس سارے معاملے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی تنقید کا طوفان امڈ آیا اور مقابلہ مس یونیورس کے صدر راؤل روچا کانتو کو نوٹس لینا پڑا۔
انھوں نے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر اِتسر گریسل کے رویے کو توہین آمیز اور خوفزدہ کرنے والا قرار دے کر انہیں مقابلے کے انتظامات سے ہٹا دیا اور نئے سی ای او ماریو بوکارو کو تھائی لینڈ بھیجا ہے۔
واضح رہے کہ مس یونیورس 2025 کا فائنل 20 نومبر کو ہوگا اور دنیا منتظر ہے کہ اب تاج کس کے سر سجتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مس یونیورس فاطمہ بوش
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔