data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251031-08-26
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عدالت عظمیٰ کے آئینی بینچ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) ماہ رنگ بلوچ نظر بندی کیس ریگولر بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کرنے کے لیے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بھجوا دیا۔ عدالت عظمیٰ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے ماہ رنگ بلوچ کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار وکیل فیصل صدیقی عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ آئینی بینچ نہیں، ریگولر بینچ کا کیس ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آپ نے ایم پی او کو چیلنج کیا ہے تو یہ آئینی بینچ کا کیس ہوا ناں۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ہم نے اپیل میں قانون کی تشریح نہیں مانگی، صرف ایم پی او آرڈر کو چیلنج کیا ہے۔ بعد ازاں آئینی بینچ نے ماہ رنگ بلوچ نظر بندی کے خلاف درخواست کو پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بھجوا دیا۔ واضح ر ہے کہ جون 2025 میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی نظربندی کے خلاف ان کی ہمشیرہ نادیہ بلوچ نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا تھا۔ نادیہ گبول نے بدھ کو عدالت عظمیٰ سے اپیل کی تھی کہ وہ بلوچستان ہائی کورٹ کے 15 اپریل کے اْس حکم کو کالعدم قرار دے، جس میں امن عامہ برقرار رکھنے کے قانون کے تحت ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی حراست کے خلاف دائر درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اس وقت کوئٹہ کی ہْدا ڈسٹرکٹ جیل میں قید ہیں، اْن کی گرفتاری 22 مارچ کو ڈپٹی کمشنر کے جاری کردہ حکم کے تحت عمل میں آئی تھی، جو امن عامہ کے قانون کے تحت جاری کیا گیا تھا۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ماہ رنگ بلوچ عدالت عظمی کے خلاف

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف