عدالت کی سیل عمارتوں سے رہائشیوں کو سامان نکالنے کی اجازت
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میںایس بی سی اے کی جانب سے مخدوش عمارتوں کو سر مہر کرنے کا معاملہ،عدالت نے سیل عمارتوں سے رہائشیوں کو سامان نکالنے کی اجازت دیدی۔متاثرہ عمارتوں کے مکینوں کی عمارتیں سیل کئے جانے کے خلاف درخواستوں کی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی جہاں ایس بی سی اے کی ٹیکنیکل کمیٹی کے اراکین عدالت میں پیش ہوئے عدالت کاکہنا تھا کہ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ بے دخل کرنے کے لئے عمارتوں کو مخدوش قرار دیا جاتا ہے، عدالت کاکہنا تھا کہ ٹیکنیکل کمیٹی کسی عمارت کے مخدوش ہونے کا تعین کس طرح کرتی ہے؟ رکن ٹیکنیکل کمیٹی کاکہنا تھا کہ اگر ٹیکنیکل کمیٹی کی رپورٹ پر اعتماد نہیں تو کسی بھی تھرڈ پارٹی ماہرین سے معائنہ کروایا جاسکتا ہے، عدالت نے استفسار کیاکہ آپ ایس بی سی اے کا حصہ نہیں ہیں، بطور آزاد ماہر آپ کو کتنے پیسے ملتے ہیں؟ رکن ٹیکنیکل کمیٹی کاکہنا تھا کہ آمد ورفت کے اخراجات کے لئے پانچ ہزار روپے ملتے ہیں،عدالت کاکہنا تھا کہ ایک عمارت کو مخدوش قرار دینے کے صرف پانچ ہزار ملتے ہیں؟ یہ آگے سے پچاس ہزار پکڑتے ہونگے، رکن ٹیکنیکل کمیٹی کاکہنا تھا کہ پانچ ہزار دورہ کرنے کے ملتے ہیں، معائنے کے بعد مخدوش ہونے سے متعلق رپورٹ تیار کی جاتی ہے،درخواست گزار کاکہنا تھا کہ عمارت کا معائنہ کرنے کے لئے ناظر مقرر کیا جائے، اگر ناظر قرار دیدے کہ عمارت مخدوش ہے تو کیس واپس لے لینگے،ایس بی سی اے کی کمیٹی بدنیتی کی بنیاد پر عمارتوں کو مخدوش قرار دے رہی ہے، عدالت کا کہناتھا کہ قانون میں آپشن موجود ہے کہ ٹیکنیکل کمیٹی پر اعتراض کی صورت میں آزاد ماہر کی خدمات لی جاسکتی ہے، آپ لوگ دوبارہ معائنہ کیوں نہیں کرلیتے؟ ایس بی سی اے کے وکیل کاکہنا تھا کہ عمارت کا دو بار معائنہ کیا جاچکا ہے، درخواست گزار کاکہنا تھا کہ ایس بی سی اے کی رپورٹ میں جو تصاویر لگائی وہ ہماری بلڈنگ کی نہیں ہیں، عدالت نے درخواست کو ایس بی سی اے ایکٹ کے سیکشن 16 کے تحت نظر ثانی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے ایس بی سی اے کو ہدایت کی کہ کسی آزاد ماہر سے عمارت کے اسٹرکچر کی جانچ کروائی جائے، درخواست گزار کاکہنا تھا کہ متاثرہ عمارتوں میں یوٹیلٹی سروسز کو عبوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا جائے،معائنے اور رپورٹ تک ایس بی سی اے کو انہدامی کارروائی سے روکا جائے، عدالت کاکہنا تھا کہ خطرناک عمارت ہے، ہم ایسے کوئی آرڈر جاری نہیں کریں گے، عدالت نے سیل عمارتوں سے رہائشیوں کو سامان نکالنے کی اجازت دیدی،صدر، کھارادر اور اردو بازار سمیت اولڈ ایریا کی آٹھ عمارتوں کے مکینوں نے درخواستیں دائر کی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس بی سی اے کی ٹیکنیکل کمیٹی عدالت کا عدالت نے ملتے ہیں
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔