لاہور کا پہلا سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبہ منظور
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
لاہور:
صوبائی دارالحکومت کے پہلے سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبے کی منظوری دے دی گئی، جس کے تحت بی آر بی کینال پر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا جائے گا۔
ترجمان محکمہ ہاؤسنگ پنجاب نے بتایا کہ 52ویں پی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں اس منصوبے کی منظوری دی گئی ہے اور لاہور بی آر بی کینال پر سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا جائے گا اور یہ منصوبہ ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا۔
ترجمان نے بتایا کہ منصوبے کے تحت یومیہ 54 ملین گیلن سرفیس واٹر قابل استعمال بنایا جا سکے گا، منصوبے سے مغلپورہ، باغبانپورہ، فتح گڑھ اور شادی پورہ کی آبادیاں مستفید ہو سکیں گی اور لاہور کی 17 لاکھ سے زائد آبادی مستفید ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ 2031 تک مکمل کیا جائےگا، منصوبے میں 120 ایکڑ اراضی پر سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تنصیب کی جائے گی، جس کے لیے 5 میگا واٹ سولر انرجی سسٹم کے ذریعے بجلی کی پیداوار بھی کی جا سکے گی۔
سیکریٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر اہم منصوبوں کا آغاز کیا جا رہا ہے اور منصوبہ جلد ہی ایکنک سے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبہ بھر میں آلودہ پانی کو قابل استعمال بنانے پر اہم پیش رفت جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جائے گا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔