گڈانی کے قریب اسمگلنگ کیخلاف کارروائی، 37 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد؛ ایف بی آر
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
گڈانی کے قریب سمندر میں اسمگلنگ کے خلاف ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کے دوران تقریباً 37 ارب روپے مالیت کی منشیات اور غیر ملکی شراب برآمد کر لی گئی۔
یہ کارروائی پاکستان نیوی، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور کلکٹریٹ آف کسٹمز (انفورسمنٹ) گڈانی نے مشترکہ طور پر کی جس کی تصدیق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کی ہے۔
ایف بی آر کے مطابق کارروائی کے دوران 500 کلوگرام آئس (میتھم فیٹامین) اور 3,500 غیر ملکی شراب کی بوتلیں برآمد کی گئیں۔ ضبط کی گئی منشیات اور شراب کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مجموعی مالیت تقریباً 13 کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
ترجمان ایف بی آر کے مطابق غیر ملکی شراب کو پاکستان اسمگل کیا جا رہا تھا، جبکہ منشیات کی کھیپ ایک بین الاقوامی منزل کے لیے روانہ کی جا رہی تھی۔ کارروائی کے بعد کلکٹریٹ آف کسٹمز (انفورسمنٹ) گڈانی نے ضبط شدہ اسمگل شدہ مال کو باضابطہ طور پر اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ انسدادِ منشیات کی یہ کامیاب کارروائی پاکستان نیوی، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور ایف بی آر کے اسمگلنگ کے خلاف غیر متزلزل عزم کا واضح ثبوت ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان کی سمندری حدود کو اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے ہر صورت روکا جائے گا اور اس حوالے سے سخت اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف بی آر
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔