لاہور میں 7، 8 اور 9 فروری کو بسنت منانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
لاہور میں بسنت کے تہوار کے لیے ضلعی انتظامیہ نے تیاریاں شروع کر دی ہیں اور بسنت کی تقریبات 7، 8 اور 9 فروری کو منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔پنجاب بھر میں بسنت سے قبل پتنگ بازی کو محفوظ اور منظم بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پتنگ سازوں، ڈور بنانے والوں، فروخت کنندگان اور کیٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے چار کیٹیگریز کے فارم جاری کیے گئے ہیں:
فارم اے: پتنگ سازوں اور ڈور بنانے والوں کے لیے
فارم بی: رجسٹرڈ افراد کو جاری ہونے والا سرکاری سرٹیفکیٹ، جس پر کیو آر کوڈ درج ہوگا۔ یہ کیو آر کوڈ پتنگ، ڈور اور دکانوں پر بھی لگایا جائے گا اور فارم بی سرٹیفکیٹ دکان کے اندر نمایاں جگہ پر رکھنا لازمی ہوگا۔
فارم سی اور فارم ڈی: کائیٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن کے لیے مختص۔پتنگ اور ڈور کی شرائط
پتنگ کا سائز 40 انچ سے زائد نہیں ہوگا۔
گڈا 30 انچ سے زیادہ چوڑائی کا نہیں ہوگا۔
ڈور صرف کاٹن کے دھاگے سے بنے گا اور اس میں نو سے زائد تاریں نہیں ہوں گی۔
ڈور کے لیے صرف پنے کی اجازت ہوگی، چرخی استعمال نہیں کی جا سکے گی۔
تیز مانجا، تندی، دھاتی تار اور کیمیکل کا استعمال ممنوع ہوگا۔پتنگ اور ڈور کے سائز، میٹریل اور معیار کو شیڈول ون کے مطابق سختی سے نافذ کیا جائے گا۔رجسٹرڈ ایسوسی ایشنز ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں بسنت کے انتظامات میں معاونت کریں گی۔ ضابطہ کار کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف رجسٹریشن منسوخی اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مانجا میں گلو، سادہ رنگ، آٹا اور کمزور شیشے کا استعمال کیا جا سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔