اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رہائش گاہ پر چینی قونصل جنرل کی آمد، ترقیاتی منصوبوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے کیونکہ تعلیم کے بغیر ترقی ناممکن ہے، ۔
اپنی رہائش گاہ کھڈیاں میں منعقدہ ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پاکستان اس وقت بڑے مسائل کا شکار ہے۔
ان کے مطابق آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن وسائل اسی رفتار سے نہیں بڑھ سکے، جس کے باعث عوام مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فوج کو کمزور کرکے پارلیمنٹ مضبوط نہیں ہوسکتی، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان
انہوں نے کہا کہ ان کا علاقہ سہجرہ سے کنگن پور تک مسائل سے دوچار ہے اور حکومت ان چیلنجز کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
ملک محمد احمد خان نے بتایا کہ گزشتہ 2 سالوں میں علاقے کے لیے قابلِ ذکر کام کیے گئے ہیں لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
’ہم 50 کے قریب نئی سڑکیں تعمیر کر رہے ہیں تاکہ آمدورفت، معاشی سرگرمیوں اور بنیادی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔‘
مزید پڑھیں: افغانستان کا معاملہ پیچیدہ، پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان
انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ یہ علاقہ سابق وزیر اعظم شہباز شریف کا انتخابی حلقہ بھی رہا ہے جہاں انہوں نے نمایاں ترقیاتی منصوبے شروع کیے تھے۔
تعلیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پنجاب میں ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ دیہات کے ایک سرکاری اسکول میں زیر تعلیم بچے پر سالانہ صرف 87 ڈالر خرچ ہوتے ہیں، جبکہ نجی اسکولوں میں ایک بچے پر ہفتہ وار 30 سے 60 ہزار روپے تک خرچ کیا جاتا ہے، جو تعلیمی عدم مساوات کا کھلا ثبوت ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان کا معاملہ پیچیدہ، پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان
’ہمیں پرائمری اور مڈل اسکول سے آگے بڑھ کر ہائی اسکولز، کالجز اور ٹیکنیکل ادارے قائم کرنا ہوں گے تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنایا جا سکے۔‘
انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر ترقی ناممکن ہے، اور یہ کہ اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے حدیث نبوی ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علم حاصل کرو چاہے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے اور اس موقع پر چینی تعاون کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
مزید پڑھیں: اسپیکر پنجاب اسمبلی سے آسٹریلوی ہائی کمشنر کی ملاقات، باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق
چینی قونصل جنرل زاؤ شیریں تقریب میں خصوصی طور پر شریک ہوئے، ان کی آمد پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ان کا بھرپور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین ہمیشہ پاکستان کے مشکل وقت میں ساتھ کھڑا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چینی قونصل جنرل کا ہمارے علاقے کے غریب، نادار اور مستحق افراد تک ویل چیئرز اور امدادی سامان پہنچانا بہت بڑا کام ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی قونصل جنرل نے کہا کہ قصور کے لوگوں نے پاک چین دوستی کے پرچم لہرا کر جس گرمجوشی کا اظہار کیا، وہ ان کے لیے قابلِ قدر ہے۔
مزید پڑھیں: ’پیسے دے کر اسپیکر پنجاب اسمبلی پر جھوٹا مقدمہ درج کروا سکتا ہوں‘
انہوں نے کہا کہ قصور جیسے تاریخی شہر کا دورہ ان کے لیے اعزاز ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ مریم نواز کا بھی شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ انتخابی وعدے کے مطابق موٹروے منصوبہ تکمیل کے قریب ہے۔
’یہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ روزگار، معاشی ترقی اور خوشحالی کا راستہ ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیکر پاکستان پنجاب اسمبلی چین چینی قونصل جنرل شہباز شریف قصور مریم نواز ملک احمد خان موٹر وے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر پاکستان پنجاب اسمبلی چین چینی قونصل جنرل شہباز شریف مریم نواز ملک احمد خان موٹر وے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک اسپیکر پنجاب اسمبلی نے چینی قونصل جنرل انہوں نے کہا کہ ملک احمد خان مزید پڑھیں کرتے ہوئے کے لیے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔