اداکار سہیل سمیر پہلی بار اپنی طلاق کے حوالے سے بول پڑے
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
کراچی:
اداکار سہیل سمیر پہلی بار اپنی سابقہ اہلیہ صوفیہ احمد سے طلاق کے بارے میں بول پڑے۔
نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں میزبان ندا یاسر سے گفتگو میں سہیل سمیر نے بتایا کہ وہ اور صوفیہ احمد تقریباً پندرہ سال قبل ملے تھے مگر ان کا رشتہ زیادہ عرصہ نہ چل سکا اور 12 سے 14 سال پہلے دونوں علیحدہ ہو گئے۔
سہیل سمیر نے بتایا کہ وہ اس وقت دوبارہ شادی شدہ ہیں اور ان کی موجودہ بیوی گھریلو خاتون ہیں۔
واضح رہے کہ سہیل سمیر نے تقریباً پندرہ سال پہلے نیوز اینکر صوفیہ احمد سے شادی کی تھی، صوفیہ احمد اس وقت بیرون ملک رہتی ہیں اور ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔
سہیل سمیر نے شوبز انڈسٹری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی فیلڈ اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ یہ آپ منحصر ہے کہ آپ خود کیسے ہیں، اگر آپ خود اچھے ہوں گے تو سب اچھا ہے۔
سہیل سمیر نے کہا کہ آج کل مشہور ہونے کا معیار بہت عجیب سا ہوگیا ہے، بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو خود چاہتے ہیں کہ انکے بارے منفی بات کی جائے تاکہ وہ وائرل ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سہیل سمیر نے صوفیہ احمد
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔