Daily Mumtaz:
2026-07-24@03:46:17 GMT

سہیل سمیر کی طویل عرصے بعد طلاق پر لب کشائی

اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT

سہیل سمیر کی طویل عرصے بعد طلاق پر لب کشائی

پاکستان کے نامور اداکار سہیل سمیر نے برسوں بعد پہلی بار اپنی سابقہ شادی اور طلاق پر لب کشائی کردی۔

سہیل سمیر نے اپنے کیریئر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا تھا، جس کے بعد وہ متعدد کامیاب ڈراموں میں اپنی شاندار اداکاری کے باعث بے حد مقبول ہوئے۔

اگرچہ آج وہ اپنی موجودہ گھریلو زندگی کو پوری طرح نجی رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا جب ان کی شادی سابقہ اداکارہ، ماڈل اور اینکر صوفیہ احمد کے ساتھ میڈیا کی خصوصی توجہ کا مرکز بنی رہی تھی، دونوں کا ایک بیٹا بھی ہے جو اس وقت صوفیہ کے ساتھ بیرونِ ملک مقیم ہے۔

حال ہی میں سہیل سمیر نے ایک پروگرام میں شرکت کی، جہاں انہوں نے 12 سے 14 سال قبل صوفیہ احمد سے ہونے والی اپنی طلاق پر بات کی۔

انہوں نے بتایا کہ میری شادی ایک نیوز اینکر سے ہوئی تھی، لیکن اب ہمیں طلاق ہوئے 12 سے 14 سال ہو چکے ہیں، میں اب خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہا ہوں، میری موجودہ بیگم گھر پر ہیں اور وہ ہاؤس وائف ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اپنی دوسری شادی اور گھریلو زندگی کو میں ہمیشہ میڈیا سے دور اور نجی رکھنا چاہتا ہوں۔

یاد رہے کہ تقریباً کئی سال قبل سہیل سمیر اور صوفیہ احمد نے شادی کی تھی اور یہ جوڑی متعدد شوز اور ایونٹس میں ایک ساتھ نظر آتی رہی، تاہم کچھ ہی عرصہ بعد دونوں میں علیحدگی ہو گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سہیل سمیر

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی