بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر شکیب الحسن نے جان بوجھ کر غیر قانونی ایکشن کے ساتھ بولنگ کرنے کا انکشاف کیا ہے۔

شکیب الحسن کے بولنگ ایکشن کو 2024 میں انگلش کاؤنٹی سرے کی جانب سے کھیلتے ہوئے غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ غیر قانونی بولنگ ایکشن کی وجہ سے انہیں معطل کردیا گیا تھا۔

ایک انٹرویو میں شکیب الحسن نے انکشاف کیا کہ میرا خیال ہے میں نے تھوڑی بہت جان بوجھ کر غیر قانونی ایکشن کے ساتھ بولنگ کی۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے سرے کی جانب سے سمر سیٹ کے خلاف میچ میں 70 سے زائد اوورز کیے، اپنے کیریئر میں کبھی ٹیسٹ میچ میں اتنے اوورز نہیں کیے تھے۔

شکیب الحسن نے کہا کہ میں لمبی بولنگ کر کے بہت تھک چکا تھا، پاکستان کے خلاف بیک ٹو بیک ٹیسٹ میچز کھیلے تھے، ہم نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتی اور پھر میں 4 روزہ کرکٹ کی طرف چلا گیا۔

آل راؤنڈر شکیب الحسن نے مزید کہا کہ میں سوچ رہا تھا کہ امپائر مجھے وارننگ دیں گے لیکن انہوں نے قانون کے مطابق کام کیا، رپورٹ کیے جانے پر میں نے شکایت بھی نہیں کی۔

شکیب الحسن نے کہا کہ میں بولنگ ایکشن کے ٹیسٹ میں فیل ہوگیا، پھر دوبارہ ٹیسٹ دیا اور وہ کلیئر ہوا۔

بنگلادیشی آل راؤنڈر نے اس میچ میں مجموعی طور پر 63.

2 اوورز کرائے تھے۔ شکیب الحسن کو رواں برس کے آغاز میں تیسرے ٹیسٹ کے بعد بولنگ کے لیے کلیئر قرار دیا گیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شکیب الحسن نے کہ میں

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف