گلشن اقبال: خواتین کی لاشوں پر کوئی تشدد کے نشانات نہیں، پولیس سرجن
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: گلشن اقبال کے ایک فلیٹ سے ملنے والی 3 خواتین کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرلیا گیا ہے، جس میں تشدد کے نشانات نہیں پائے گئے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ طارق کے مطابق لاشوں سے کیمیائی تجزیے کے لیے خون اور مختلف اعضاء کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں، جبکہ موت کی اصل وجہ لیبارٹری رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی۔
واقعے کی تحقیقات کے لیے مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا جائے گا اور فلیٹ کے اطراف کی سی سی ٹی وی ریکارڈز بھی حاصل کی جارہی ہیں۔
ابتدائی شواہد کے مطابق ماں، بیٹی اور بہو کی اموات ممکنہ طور پر زہریلی چیز کھانے کی وجہ سے ہوئی ہیں، جبکہ گھر میں بے ہوشی کی حالت میں ملا نوجوان محفوظ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔