کراچی: گلشن اقبال میں فلیٹ سے تین خواتین کی لاشیں برآمد، مرد تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
کراچی:
گلشن اقبال میں حرمین رائل ریزیڈنسی کے ایک فلیٹ سے تین خواتین کی لاشیں ملنے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ واقعے کی اطلاع گھر میں موجود جاں بحق ہونے والی خاتون کے بیٹے نے پولیس کو دی جس کے بعد پولیس، کرائم سین یونٹ اور متعلقہ افسران جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
چھیپا ذرائع کے مطابق لاشوں اور ایک متاثرہ شخص کی شناخت 52 سالہ ثمینہ، 22 سالہ ماہا، 19 سالہ ثمرین اور 30 سالہ یاسین کے ناموں سے ہوئی ہے، جن میں یاسین کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والی خواتین آپس میں ماں، بیٹی اور بہو ہیں۔
ایس ایس پی ضلع شرقی زبیر نذیر شیخ کے مطابق ایک خاتون کی لاش کئی دن پرانی معلوم ہوتی ہےجبکہ دو خواتین کی لاشیں چند گھنٹے پرانی معلوم ہوتی ہیں۔
ایس ایس پی کے مطابق ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خواتین کی موت کسی زہریلی چیز کھانے سے ہوئی، تاہم جائے وقوعہ سے ابھی تک ایسے شواہد نہیں مل سکے جن سے موت کی وجہ کا حتمی تعین کیا جا سکے۔
لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ سامنے آسکے گی۔ پولیس کے مطابق یہ خاندان کچھ عرصہ قبل رینچھور لائن سے گلشن اقبال منتقل ہوا تھا جبکہ گھر کے سربراہ کی ذہنی حالت بھی درست نہیں۔
دوسری جانب رہائشی پروجیکٹ کی انتظامیہ نے میڈیا کو عمارت میں داخلے سے روک دیا ہے جبکہ پولیس واقعے کی تفتیش مختلف پہلوؤں سے کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں