data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: شہر قائد میں 3 خواتین سمیت 5 افراد کی لاشیں برآمد جب کہ ایک مرد تشویش ناک حالت میں ملا ہے۔

کراچی میں گلشن اقبال کے علاقے حرمین ٹاور بلاک ٹو میں گھر سے 3 خواتین کی لاشیں برآمد ہوئیں جب کہ گھر کے اندر سے ایک مرد بھی تشویش ناک حالت میں ملا ہے۔جاں بحق خواتین کی شناخت 52 سالہ ثمینہ، 22 سالہ ماہا اور 19 سالہ ثمرین کے ناموں سے ہوئی ہے جب کہ مرد کی شناخت یاسین کے نام سے ہوئی ہے۔

پولیس اور کرائم سین یونٹ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، لاشوں کو اور نیم بیہوش شخص کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ تینوں خواتین کی لاشوں پر کوئی زخم کے نشانات موجود نہیں، شبہ ہے کہ زہریلی گیس سے گھر میں موجود افراد کی اموات ہوئی، واقعے سے متعلق مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ادھر بلدیہ مواچھ گوٹھ میں گھر سے ایک شخص کی پھندا لگی لاش ملی، جس کی شناخت فرحان کے نام سے ہوئی اور ابتدائی تفتیش میں واقعہ خودکشی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں۔جبکہ لیاری آگرہ تاج بابو ہوٹل کے قریب سڑک سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی، جس کی شناخت 30 سالہ سہیل کے نام سے کی گئی ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق متوفی بظاہر نشے کا عادی معلوم ہوتا ہے جب کہ دونوں لاشوں کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی شناخت

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن