چوہدری سعد محمد کوممبر ILOگورننگ باڈی منتخب ہونے پر مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کی محنت کش تحریک کے لیے ایک تاریخی لمحے میں چوہدری سعد محمد کو انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کی گورننگ باڈی کا رکن منتخب کر لیا گیا ہے۔ وہ تنظیم کی 105 سالہ تاریخ میں سب سے کم عمر (35 سال) ممبر بن گئے ہیں۔ انہیں جنوبی ایشیا کی نشست پر انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن (ITUC) نے نامزد کیا تھا اور ان کا نام آئی ایل او کی عالمی ویب سائٹ پر باضابطہ شامل کر دیا گیا ہے۔مزدور تحریک سے ان کی وابستگی تقریباً نو دہائیوں پر محیط خاندانی وراثت کا تسلسل ہے۔ ان کے دادا چوہدری رحمت اللہ قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ آل انڈیا پوسٹل ورکرز یونین میں فعال رہے اور بعدازاں قائداعظم کی رہنمائی میں آل انڈیا لیبر لیگ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ روایت ان کے والد کے ذریعے آگے بڑھی اور اب چوہدری سعد اسے عالمی سطح تک لے آئے ہیں۔
چوہدری سعد کی تعیناتی کے ساتھ ہی ان کے خاندان کی تیسری نسل عالمی مزدور حکمرانی کے اعلیٰ ترین فورم پر پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہے ۔ جو ان کے گھرانے کے تاریخی کردار اور محنت کشوں کے حقوق کے لیے مستقل جدوجہد کا مظہر ہے۔
اس موقع پر عالمی ادارہ محنت (ILO) پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر مسٹر ٹونسٹول نے چوہدری سعد محمد جنرل سیکرٹری پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کو ILOگورننگ باڈی کا بطور ورکرز نمائندہ منتخب ہونے پراظہاریکجہتی کرتے
ہوئے یادگاری طور پر پشاور کے ایک نجی ہوٹل میں کیک کاٹا اور اپنی نیک تمناؤں اور مزدور تحریک کے لیے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ اس موقع پر ایمپلائر فیڈریشن پاکستان کے جنرل سیکرٹری سید نظر بمعہ دیگر آجرنمائندگان، احسان پی یو ڈبلیو ایف ودیگر یونینز اور حکومتی اہلکاران موجود تھے۔ بعد ازاں تمام شرکاء نے نومنتخب گورننگ باڈی ممبر کو مبارکباد دی اور یادگار کے طور گروپ فوٹوز بھی بنائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چوہدری سعد
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔