بلوچستان کی صوبائی کابینہ کا اجلاس، بینک آف بلوچستان کے قیام سمیت دیگر فیصلے
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی، شہری سفری سہولیات، مالیاتی اصلاحات، بینک آف بلوچستان کے قیام، انتظامی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، ماحولیات اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا بیسواں اجلاس چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ جس میں موسمیاتی تبدیلی، شہری سفری سہولیات، مالیاتی اصلاحات، بینک آف بلوچستان کے قیام، انتظامی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، ماحولیات اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے آغاز پر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو "سی ڈی ایف" کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے دوران جنرل عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت اور دفاعی حکمت عملی نے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں نمایاں اضافہ کیا، جبکہ پاک افواج ہر طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہیں اور بلوچستان کے عوام ہمیشہ اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ اجلاس میں شہری سفری سہولیات کے حوالے سے گرین بس سروس کے مزید روٹس اور اضافی بسوں کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کے لیے "پنک بس سروس" کا آغاز کیا جا رہا ہے، جو خواتین کے محفوظ اور باوقار سفر کی جانب ایک اہم عملی قدم ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں پہلا کلائیمنٹ فنڈ قائم کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ماحول دوست پالیسیوں اور موسمیاتی لچک پر مبنی منصوبوں کو مستحکم کیا جائے گا۔ کابینہ نے ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لیے رکشوں اور موٹر بائیکس پر مرحلہ وار پابندی عائد کرنے اور صوبے میں الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک رکشہ متعارف کرانے پر اتفاق کیا۔ مالیاتی شعبے میں اہم پیش رفت کے طور پر صوبائی کابینہ نے "بینک آف بلوچستان" کے قیام کی اصولی منظوری دی۔ جس کے بارے میں وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ آئندہ سال تک اس بنک کو عملی شکل دی جائے اور اس کا انتظامی بورڈ مکمل شفافیت اور سو فیصد میرٹ کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ انہوں نے واضح طور پر ہدایت کی کہ بنک آف بلوچستان کو ہر قسم کے سیاسی دباؤ اور مصلحتوں سے مکمل طور پر پاک رکھا جائے گا۔ اجلاس میں بلوچستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ٹریبونل کے چیئرپرسن کی تقرری کی توثیق سمیت برتھ اینڈ ڈیتھ رجسٹریشن ماڈل بائی لاز 2022 اور اقلیتی ''بہائی'' کمیونٹی کے لیے اسپیشل میرج ایکٹ کی منظوری بھی دی گئی۔
کابینہ نے صوبے میں قانونی سہولت کاری کو مؤثر بنانے کے لیے فیصلہ کیا کہ ڈویژن کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو جسٹس آف پیس کے اختیارات تفویض کیے جائیں گے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ جسٹس آف دی پیس پولیس کو قابلِ دست اندازیِ معاملات میں ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دے سکے گا۔ ہراسانی کی شکایات کا فوری ازالہ کرے گا اور قانونی پیچیدگیوں سے پیدا ہونے والی تاخیر کو کم کرنے کے لیے ایک فعال فورم کے طور پر کام کرے گا۔ تعلیم کے شعبے میں اہم فیصلہ کرتے ہوئے کابینہ نے تین ہزار سنگل روم اسکولز میں پیرنٹ ٹیچرز کمیٹیوں کے ذریعے تعمیر کیے جانے والے اضافی کمروں اور سہولیات کے اخراجات کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا اور یہ ہدف مقرر کیا کہ آئندہ تین برسوں میں صوبے کے 90 فیصد سنگل روم اسکولز کو دو کمروں تک توسیع دی جائے گی۔ ترقیاتی و معاشی شعبوں میں کابینہ نے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میں پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے قیام، بلوچستان لائیوہُڈ سپورٹ پروجیکٹ، ٹیکس آن لینڈ اینڈ ایگریکلچر انکم رولز 2025 اور بلوچستان لیویز فورس سروس رولز 2023 میں ترامیم کی منظوری بھی دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی کابینہ اس عزم پر قائم ہے کہ صوبے کے مالی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ شہری سہولیات کو شفافیت اور رفتار کے ساتھ بہتر بنائیں اور ایسے فیصلے کریں جن کے اثرات آج نہیں تو آنے والے برسوں میں واضح طور پر نظر آئیں۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، شہری ٹرانسپورٹ کو جدید کرنے، تعلیم کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے ہم نے عملی اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ ہم وہ صوبہ بنانے جا رہے ہیں، جہاں ترقی فیصلوں پر نہیں بلکہ نتائج پر ناپی جائے گی اور جہاں ہر شہری کو یہ احساس ہو کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے، ان کے لیے کام کر رہی ہے اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنا رہی ہے۔ اجلاس میں سکیورٹی فورسز اور سویلین شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی، جبکہ صوبائی وزیر آبپاشی محمد صادق عمرانی کی جلد صحت یابی کے لیے بھی خصوصی دعا کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بینک آف بلوچستان موسمیاتی تبدیلی صوبائی کابینہ بلوچستان کے کابینہ نے کی منظوری اجلاس میں کے قیام کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔