Jasarat News:
2026-06-02@22:36:42 GMT

کراچی: لاوارث شہر کی چیخیں

اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251208-03-5
سید آصف محفوظ
گزشتہ دن ایک اور معصوم بچہ اس شہر ِ کے کھلے مین ہول (گٹر) کی نذر ہوگیا۔ کراچی میں پیش آنے والا یہ دل خراش واقعہ حادثہ نہیں المیہ ہے۔ المیہ اس سوچے سمجھے منصوبے کا جس کے تحت اس شہر کو برسوں سے تباہ کیا جا رہا ہے۔ یہ شہر جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، آج بدانتظامی، لاقانونیت اور سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے۔ نہ یہاں کوئی نوجوان اسٹریٹ کرائم سے محفوظ ہے، نہ کوئی شہری ٹینکر اور ڈمپر مافیا کے ظلم سے بچا ہوا ہے۔ کبھی بوری بند لاشوں نے کراچی کا تقدس تار تار کیا، اور آج بدترین انتظامی غفلت اس شہر کے ہر گلی کوچے میں موت کا پہرہ بٹھائے کھڑی ہے۔

سترہ برس سے سندھ پر مسلط پیپلزپارٹی کی حکمرانی نے کراچی کو اس حال تک پہنچایا ہے کہ کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ اس شہر کا میئر ایک ایسے سیاسی کارکن کو بنایا جائے گا جو شہر کے مینڈیٹ کا امین نہیں بلکہ محض پارٹی کی وفاداری کا پابند ہو۔ یہ قبضہ سیاسی بھی ہے اور انتظامی بھی، اور دونوں مل کر کراچی دشمنی کی ایک بدترین مثال قائم کر رہے ہیں۔ کراچی کا انفرا اسٹرکچر ہو، پانی کا انتظام، صفائی کا نظام یا ٹرانسپورٹ۔ ہر شعبہ سندھ حکومت کی نااہلی کی چیخیں مار رہا ہے۔ مگر شہر کے دکھوں کی فہرست یہیں ختم نہیں ہوتی۔

اگر کراچی آج اس تباہی کا شکار ہے تو اس کا بوجھ صرف پیپلزپارٹی پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ تبدیلی کے نام پر ووٹ لینے والی تحریک انصاف بھی اس شہر کے زخموں میں برابر کی شریک ہے۔ جب کراچی کے میئر کا فیصلہ ہو رہا تھا، تحریک انصاف نوٹوں کے بوجھ تلے ایک طرف ہو گئی۔ جماعت اسلامی کے امیدوار کو روکنے میں سب سے بڑا کردار بھی پی ٹی آئی نے ادا کیا۔ آج وہی جماعت، جو کراچی کی وکالت کے نعروں پر اقتدار میں آئی تھی، عملی طور پر پیپلزپارٹی کی بی ٹیم بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ روز حادثے کی جگہ پر پی ٹی آئی کے رہنما عالمگیر خان کا طرزِ عمل اسی سیاسی منافقت کی تازہ مثال ہے، جہاں وہ جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمین اور یو سی چیئرمین پر اپنے لفظی حملوں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے نظر آئے اور میئر کی ترجمانی کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔ سوال یہ ہے کہ کراچی کی تباہی کے ذمے دار آخر کون ہیں؟ وہ جو سترہ سال سے حکومت میں ہیں، یا وہ جو تبدیلی کے نام پر امیدیں بیچ کر اسی حکومت کے پیچھے کھڑے ہیں؟

پیپلزپارٹی کی سترہ سالہ کارکردگی اور تحریک انصاف کا دوغلا کردار اب کراچی کے عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ یہ شہر کسی کی جاگیر نہیں، نہ کسی پارٹی کی چراگاہ۔ کراچی کے مسائل کا حل سیاسی جوڑ توڑ میں نہیں، بلکہ اس شہر کے اصل مینڈیٹ کے احترام اور انتظامی اصلاحات میں ہے۔ یہ شہر اب مزید تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہاں ہر روز مرنے والا بچہ، ہر گٹر میں گرنے والا انسان، ہر ڈکیتی میں قتل ہونے والا شہری سیاسی بے حسی کا ماتم ہے۔ کراچی کو سیاسی انا کی نہیں، سنجیدہ منصوبہ بندی اور مخلص قیادت کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ شہر اسی طرح مرتا رہے گا… اور اس کی چیخیں اسی طرح ہوا میں تحلیل ہوتی رہیں گی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے والا یہ شہر شہر کے

پڑھیں:

کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی میں یکم جون سے شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کے آغاز ہوگیا اور پہلے روز 11 گیٹیگریز کی سواریوں کے فیس لیس چالان ہوئے۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق لین کی خلاف ورزی پر پہلے دن مجموعی طور پر 96 چالان ہوئے۔

بڑی بس 2، کوسٹر 2، ڈبل کیبن 1 اور گاڑی کے 9 چالان کیے گئے جبکہ منی بس 6، منی ٹرک 3 اور سوزوکی پک اپ کے 21 چالان ہوئے۔

اسی طرح موٹر سائیکل پر 43، ٹرک 3، وین 4 اور واٹر ٹینکر پر 2 چالان ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق تمام چالان اپنی لین سے ہٹ کر دوسری لین میں چلانے پر ہوئے، فرسٹ لین میں آہستہ چلانے پر بھی فیس لیس چالان کیا گیا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

مزید :

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے