Express News:
2026-07-24@02:22:40 GMT

بیچ میں رہ گئی بات

اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT

چند روز قبل آئی ایم ایف کی ایک اور رپورٹ نے ہمیں اصلاحات کی یاددہانی کروائی ہے۔ ہر حکومت کی طرح یہ حکومت بھی اصلاحات کے لیے ’’پر عزم‘‘ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں اصلاحات کا معاملہ اس مریض جیسا ہے جو اپنے مرض کے لیے بار بار ڈاکٹر کے پاس تو جائے مگر پرہیز اور علاج پر عمل کبھی نہ کرے اور پھر گلہ کرے کہ صحت یاب نہیں ہو رہا، مرض وہیں کا وہیں ہے۔

تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ حال ہی میں آئی ایم ایف نے پاکستان پر ایک دلچسپ رپورٹ جاری کی ہے: گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک اسیسمنٹ۔ آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ ہمارے ریاستی اور گورننس نظام کا الٹراساؤنڈ ہے۔

رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ ملک میں گورننس اور کرپشن کا ناسور پوری ریاستی مشینری میں پھیلا ہوا ہمہ گیر عارضہ ہے: کمزور گورننس، کرپشن، عدم شفافیت، سیاسی دخل اندازی اور انصاف کی کمزوری۔ یہ رپورٹ ان تمام خرابیوں کی نشان دہی کرتی ہے جس کا رونا ہمارے کاروباری اور غیرکاروباری حلقے روتے رہے ہیں اور دنیا ہمیں ہر الم غلم عالمی رینکنگ انڈکسوں کے ذریعے باور کرواتی رہی ہے۔

آئی ایم ایف نے چھ اہم شعبوں کی نشاندہی کی ہے جہاں پاکستان کا نظام مسلسل ناکامی کا شکار ہے:

اول: ٹیکس نظام: کمزور، پیچیدہ اور امتیازی ہے۔

دوم: سرکاری اخراجات بے قابو اور طریقہ کار غیرشفاف ہے۔

سوم: پبلک سیکٹر کارپوریشنز میں بدانتظامی اور کرپشن نے وسائل کے اجاڑے کو ایک مستقل صورت دے رکھی ہے۔

چہارم: کرپشن کا فیصلہ سازی کے ہر درجے پر راج ہے۔

پنجم: عدالتی نظام: تاخیر، عدم یکسانیت، کمزور نفاذ، سول مقدمات کا فیصلہ کئی سال کھینچ جاتا ہے۔

ششم: عوامی شفافیت اور ڈیٹا کی کمی اور پالیسی سازی میں عوامی شرکت نہ ہونے کے برابر۔

اگر یہ خرابیاں دور ہوں تو آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان اپنی معاشی کارکردگی میں 5 سے 6.

5 فیصد اضافی پوائنٹس تک بہتری لا سکتا ہے۔ کون مر نہ جائے اس سادگی پر!

معروف ماہر معیشت اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک شاہد کاردار نے اس رپورٹ پر اپنے تجزیے میں یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ پاکستان کے معاشی ماڈل کی تشکیل میں IMF نے اپنی ذمے داری کو کیسے نبھایا ہے؟

شاہد کاردار کے مطابق آئی ایم ایف کی 186 صفحات پر مشتمل رپورٹ نے وہی عمومی باتیں دہرائی ہیں جو پاکستان میں ہر خاص و عام کے علم میں ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان کی معاشی پالیسیوں کے اہم فیصلے اکثر انھی بین الاقوامی اداروں کے مشوروں اور شرائط کے تحت کیے گئے۔ لہٰذا اگر آج انھی شعبوں کی کمزوری کا رونا ہے تو پھر اس صورتحال میں IMF کا کردار بھی زیر بحث آنا چاہیے۔

اس ضمن میں یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اہم نکتہ معاشی پالیسیوں کی تشکیل کا نہیں، اس سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کا ہے جو اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتا۔ ٹیکس اصلاحات کی مثال لے لیں… IMF نے ہمیشہ ٹیکس نیٹ بڑھانے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی میں اضافہ کرنے، مراعات ختم کرنے اور بڑے شعبوں کو دستاویزی معیشت میں لانے پر زور دیا ہے۔

یہ سب بنیادی اقتصادی اقدامات ہیں اور آئی ایم ایف کا مشورہ غلط بھی نہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں موجود طاقت کے توازن، سیاسی مفادات، اشرافیہ کے دباؤ اور بیوروکریسی کے مزاحمتی رویے کے ہوتے ہوئے یہ اصلاحات نافذالعمل نہیں ہوسکیں۔

رپورٹ میں مسئلہ بیان تو ہے، مگر اس نظام کی سیاسی معاشیات (Political Economy) کے بھاری بھرکم اثرات کا اعتراف، ادراک اور گلوخلاصی کا خاکہ مفقود ہے۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ کا سب سے بڑا خلا یہی ہے کہ وہ گورننس کو تکنیکی مسئلہ سمجھ کر اقدامات تجویز کرتی ہے، جب کہ گورننس بنیادی طور پر سیاسی مسئلہ ہے۔ فیصلہ سازی نہ صرف تکنیکی صلاحیت کا تقاضا کرتی ہے بلکہ پالیسی کے نتائج کا سب سے بڑا اثر ان طبقات پر پڑتا ہے جو سیاسی عمل میں سب سے زیادہ موثر ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہر اصلاحات کا پہیہ بلآخر اسی مقام پر آ کر رک جاتا ہے، جہاں طاقتور گروہوں کے مفادات متاثر ہونے لگتے ہیں۔

عالمی اداروں کی سفارشات اپنی جگہ درست، مگر ان کا عملی اطلاق اسی وقت ممکن ہے جب اصلاحات کی اونرشپ پاکستانی سیاسی قیادت، بیوروکریسی، کاروباری طبقے اور سول سوسائٹی کے درمیان مشترکہ ہو۔

رہی آئی ایم ایف کی تشخیص، تو یہ حقیقت متعدد بین الاقوامی اشاریوں سے پہلے ہی آشکار ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس (CPI) میں پاکستان کا 180 ممالک میں 135واں نمبر ہے۔

ورلڈ جسٹس پروجیکٹ (WJP) کے مطابق پاکستان 130 ممالک میں 129ویں یا 130ویں نمبر کے آس پاس ہے۔

یہ اعداد و شمار نہ صرف آئی ایم ایف رپورٹ کی تصدیق کرتے ہیں بلکہ یہ بتاتے ہیں کہ مسئلہ اسٹرکچرل ہے، عارضی نہیں۔

ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں غربت 40.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

ایک ایسا ملک جہاں تنخواہ داروں سے تو ایڈوانس ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے لیکن اکثر طبقات کو استثنیٰ دیا جاتا ہے، وہاں غربت میں کمی کیسے ممکن ہے؟

تضادات اور استحصال سے لتھڑے اس اشرافیائی نظام کا نتیجہ ہے کہ وسائل کمزور طبقے تک نہیں پہنچتے، ترقیاتی بجٹ کاغذوں میں خرچ ہو جاتا ہے، تعلیم، صحت، انصاف سب کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ اس گھن چکر کو توڑے بغیر معاشی بہتری ناممکن ہے۔

اس رپورٹ کے جاری ہونے پر دو چار روز باہمی سیاسی الزام تراشی نے میڈیا میں رونق لگائے رکھی، لیکن پھر وہی… رات گئی بات گئی والا معاملہ ہو گیا۔

میڈیا اور عوام کو ایک نوٹیفکیشن کی فکر لگ گئی، پھر بیانیوں کے سدھار اور ٹکراؤ کی بات چل نکلی۔ عوام کے مسائل کی بات اس دوران ایک بار پھر بیچ میں رہ گئی۔ بقول امجد اسلام امجد:

تیرے اردگرد وہ شور تھا ، مری بات بیچ میں رہ گئی

نہ میں کہہ سکا نہ تو سن سکا، مری بات بیچ میں رہ گئی

تری بے رخی کے حصار میں، غم زندگی کے فشار میں

مرا سارا وقت نکل گیا، مری بات بیچ میں رہ گئی

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف کی بیچ میں رہ گئی پاکستان میں کے مطابق جاتا ہے

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق