Jasarat News:
2026-07-24@03:45:04 GMT

پاکستان کے مزدوروں کے مسائل اور حل کے راستے

اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان میں محنت کش طبقات…مزدور، کسان، دیہاڑی دار، گھریلو ملازمین، صنعتی ورکرز اور سرکاری ملازمین بدترین معاشی دباؤ، استحصال اور غیر منصفانہ نظام کا سامنا کر رہے ہیں۔
مسائل کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے، لیکن انہیں حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ اور سنگین بنا دیا گیا ہے۔
مزدور طبقہ ’’بدل دو نظام‘‘ تحریک کا حصہ بن کر ہی اپنی تقدیر بدل سکتا ہے۔ یہی واحد امید اور راستہ ہے جس کے ذریعے موجودہ ظالمانہ، فرسودہ، جاگیرداری و سرمایہ دارانہ نظام کو بدلا جا سکتا ہے۔ وہ نظام جو چند ہزار سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور بالادست افسر شاہی کے ٹرائیکا پر قائم ہے۔
یہی نظام ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس کی واضح مثال انرجی بحران ہے۔ ایک مصنوعی بحران جسے لوٹ مار کا ذریعہ بنا کر صنعتیں بند کی جا رہی ہیں، سرمایہ کار ملک چھوڑ رہے ہیں اور بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
زیر زمین وسائل کے بہتر استعمال، ٹیکنالوجی کے حصول اور روزگار بڑھانے کے بجائے، غیر ملکی انحصار نے قیمتی وسائل ضائع کر دیے ہیں۔
پاکستان کی لیبر فورس کا موجودہ منظرنامہ
3سال سے اقتصادی سروے میں مزدوروں کے حوالے سے ڈیٹا شامل نہیں کیا جاتا۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق:
لیبر فورس: تقریباً 8.

5 کروڑ (آبادی کا ایک تہائی)
83% مزدور غیر رسمی (Informal) سیکٹر میں شامل
یہ مزدور لیبر قوانین، سوشل پروٹیکشن، EOBI، سوشل سیکورٹی سے محروم ہیں
باقی 16–17% کے لیے قوانین تو موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
مستقل ملازمت کا خاتمہ اور ٹھیکیداری نظام تیزی سے بڑھ رہا ہے
سندھ و پنجاب لیبر کوڈز ٹھیکیداری نظام کو قانونی تحفظ دے رہے ہیں
ٹریڈ یونینز کا حق عملاً محدود ۔ صرف 2% مزدور یونین بنا سکتے ہیں
سوشل پروٹیکشن سے فائدہ اٹھانے والے 3–5% سے بھی کم ہیں
سوشل پروٹیکشن اداروں کی صورتحال
EOBI، WWF، سوشل سیکورٹی
تینوں اداروں میں رجسٹریشن کی شرح 5% سے بھی کم
کرپشن، بدانتظامی، شفافیت کی عدم موجودگی
کھربوں روپے لوٹ مار کا شکار
مزدور کے بڑھاپے اور علاج کا کوئی یقینی نظام موجود نہیں

کم از کم اجرت
مقررہ کم از کم اجرت: 40,000 روپے ماہانہ
عمل درآمد: 10% سے بھی کم
وفاق میں اب بھی گزشتہ سال کی اجرت 37,000 روپے رائج
شعبہ وار مزدور مسائل
-1 زرعی مزدور (Agriculture) — 37% سے زائد لیبر فورس

انتہائی کم اجرت
زمین کے حقوق کی پیچیدگیاں
موسمی خطرات، بچوں کی مشقت
صحت و تعلیم کی عدم دستیابی
لیبر قوانین، سوشل پروٹیکشن، سوشل سیکورٹی سے مکمل محرومی
-2 صنعتی شعبہ (ٹیکسٹائل، مینوفیکچرنگ)
حفاظتی قوانین پر عمل نہ ہونے کے برابر
غیر رجسٹرڈ کنٹریکٹ لیبر

اوور ٹائم کی جبری مشقت
صنعتی حادثات میں ورکرز کو معاوضہ نہ ملنا
چھوٹے کارخانوں میں مکمل استحصال
-3 خدماتی شعبہ (تعمیرات، ریٹیل، ٹرانسپورٹ، گھریلو ملازمین)
تعمیراتی مزدوروں کے حالات: انتہائی خراب
گھریلو ملازمین:
کوئی قانونی تحفظ نہیں

انتہائی کم اجرت
کام کے اوقات بے ضابطہ
صحت/تعلیم تک رسائی محدود
-4 انفارمل سیکٹر… پاکستان کا سب سے بڑا طبقہ
اسٹریٹ وینڈرز، چھوٹے ہنر مند، خود روزگار لوگ
ریاستی سوشل پروٹیکشن سے مکمل باہر

آمدنی غیر یقینی
بچوں کی تعلیم اور صحت تک رسائی محدود
تعلیم اور صحت کے شدید بحران
تعلیم
تقریباً 3 کروڑ بچے اسکول سے باہر … سب سے زیادہ مزدور گھرانے متاثر
فیسوں کا بوجھ… نجکاری نے حالات مزید خراب کر دیے
ایک طبقہ اشرافیہ کے سکولوں سے تعلیم حاصل کرتا ہے جبکہ مزدور طبقہ محروم رکھا گیا ہے
صحت
نجکاری اور کم بجٹ سے حالات بدترین
پبلک ہسپتالوں کی کمی
نصف آبادی کو علاج کے اخراجات ایک بڑا مالی بوجھ
نجکاری کے منفی اثرات

تعلیم کی نجکاری
کم آمدنی خاندانوں کے لیے فیس ناقابل برداشت
پبلک سکولوں کے بجٹ میں کمی سے معیار گرا، ناہمواری بڑھی
صحت کی نجکاری
علاج مہنگا… مزدور طبقہ صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم
عوامی اسپتالوں کی نجکاری کے خلاف بے سود مزاحمت
سرکاری ملازمین کے مسائل بھی مزدور مسائل کا حصہ
مستقل نوکریوں کا خاتمہ
آؤٹ سورسنگ کا بڑھتا رجحان

پنشن اور
Leave Encashmentختم کرنے کی کوششیں
ترقی کے راستے محدود
سرکاری ملازمین پر پابندیاں جبکہ اشرافیہ (ججز، جرنیل) کی مراعات میں اضافہ
اضافی اہم مسائل جو اوپر موجود نہیں تھے … شامل کیے گئے ہیں:
مہنگائی اور اجرت کا فرق
مہنگائی کی شرح 25–30% جبکہ اجرت اس کا نصف بھی نہیں۔
سوشل ڈائیلاگ کی کمی
حکومت، مالکان اور مزدوروں کے درمیان مؤثر مذاکراتی نظام موجود نہیں۔
خواتین مزدوروں کے مسائل

ہراسگی
موجودہ قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے خطرات
میٹرنٹی بینیفٹس کا نہ ملنا
کم اجرت اور زائد اوقات کار
ٹیکنالوجی/آٹومیشن
جدید ٹیکنالوجی کے آنے سے لاکھوں لوگوں کے بے روزگار ہونے کا خطرہ ۔ لیکن اس کے لیے ’’ری اسکلنگ پروگرام‘‘ موجود نہیں۔
مہاجر اور افغان لیبر
زیادہ استحصال کا شکار، کم اجرت پر مجبور، بغیر قانونی تحفظ۔
مطالبات
1۔ غیر رسمی مزدوروں کی ملک گیر رجسٹریشن مہم
EOBI، سوشل سیکورٹی، WWF میں شمولیت یقینی بنائی جائے۔
2۔ سوشل پروٹیکشن کا دائرہ کار بڑھایا جائے

غریب مزدوروں کے لیے سادہ اور سبسڈی والی کنٹریبیوشن اسکیمیں متعارف کروائی جائیں۔
3۔ کم از کم اجرت کا 100% نفاذ
موبائل لیبر انسپیکشن ٹیمیں، فیکٹری سرویلنس اور سخت سزائیں۔
4۔ بچوں کی تعلیم قومی ترجیح
مزدور گھرانوں کے بچوں کے لیے مفت تعلیم، وظائف، کتابیں، ٹرانسپورٹ۔
5۔ صحت اور تعلیم حکومت کی بنیادی ذمہ داری
نجکاری اور آؤٹ سورسنگ بند کی جائے۔
6۔ ہر صوبے میں مزدور ڈیٹا بیس قائم کیا جائے۔
Evidence Basedپالیسی تشکیل دی جائے۔
7۔ سرکاری ملازمین کے حقوق کا مکمل تحفظ
پنشن، ترقی، مستقل نوکریاں، اساتذہ کے حقوق کی بحالی۔

8۔ آزاد اور طاقتور ٹریڈ یونینز
رجسٹریشن، ریفرنڈم، چارٹر آف ڈیمانڈ معاہدات میں رکاوٹیں دور کی جائیں۔
9۔ EOBI پنشن میں اصلاحات
پنشن کم از کم اجرت کے مطابق کی جائے۔
10۔ سندھ و پنجاب لیبر کوڈ فوری واپس
تمام اسٹیک ہولڈرز، خصوصاً لیبر نمائندوں کے ساتھ مشاورت ضروری۔
11۔ صنعتی صحت و حفاظت (OSH) قوانین پر سخت عملدرآمد
12۔ مہنگائی سے مطابقت رکھنے والی سالانہMinimum Wage Indexation
مزدور پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، مگر سب سے کم تحفظ انہیں حاصل ہے۔
ملک کی تعمیر و ترقی اور مستقبل تب ہی روشن ہو سکتا ہے جب محنت کش طبقے کے جائز حقوق، باعزت روزگار، سوشل پروٹیکشن اور تعلیم و صحت کے مساوی مواقع یقینی بنائے جائیں۔
اس تحریر کے ذریعے محنت کشوں کے حقیقی مسائل، ان کو درپیش نظام کے چیلنجز اور عملی حل مؤثر انداز میں سامنے لایا گیا ہے۔

شمس الرحمن سواتی گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین سوشل پروٹیکشن سوشل سیکورٹی مزدوروں کے موجود نہیں

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا