Express News:
2026-07-24@07:08:40 GMT

پنشنر اساتذہ کے مسائل

اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT

تعلیم و تدریس کو ایک معزز پیشہ سمجھا جاتا رہا ہے اور کسی شخص کا تعلیم کے پیشے سے وابستہ ہونا، اس کے ہی نہیں، اس کے پورے خاندان کے لیے نیک نامی کا باعث ہوا کرتا تھا۔ استاد صرف طالب علم کے لیے ہی قابل احترام نہیں ہوتا تھا بلکہ طلبا کے والدین بھی اپنے بچوں کے اساتذہ کے آگے بچھے جاتے تھے۔

اسی احترام کا نتیجہ تھا کہ ماضی میں جب اساتذہ کو دوسرے پیشوں کے مقابلے میں کم مشاہرے پر خدمات انجام دینا پڑتی تھیں تو اساتذہ اسے بخوشی گوارا کر لیا کرتے تھے کہ بلا سے پیٹ بھرے یا نہ بھرے عزت تو میسر آتی ہے کوئی زبان دراز تو نہیں ہوتی ،کسی کی پیشانی کے بل تو دیکھنا نہیں پڑتے، اساتذہ اپنی عزت کے ساتھ تنگ دستی میں بھی خوش باش رہتے تھے۔

پھر یہ بھی ہوا کہ حکومتی سطح پر تمام قسم اور ہر کیڈر کے ملازمین کے لیے یکساں مشاہرے اور پے اسکیل رائج ہو گئے اور اساتذہ کو بھی دوسرے پیشے کے لوگوں سے ہم آہنگ معاوضہ ملنے لگا اور ایک طرح ان کی معاشی عزت بھی بحال ہوئی۔

مگر ہوا یہ کہ تعلیم کے عام ہونے کے سبب تعلیمی ادارے کھلتے اور علمی سہولتیں فراہم کرتے گئے مگر تعلیم کے اس فروغ نے ایک بار پھر اساتذہ کو تنگ دستی سے آشنا کر دیا۔ ہوا یہ کہ تعلیم کو ایک انڈسٹری بنا لیا گیا۔ اب عقل و خرد کی دولت سے مالا مال حضرات نے اپنی خوشحالی کے لیے تعلیم کا دامن تھام لیا۔ کسی قدر سرمایہ فراہم کرکے کرایہ کا اچھا دو تین منزلہ مکان حاصل کیا۔

اس میں فرنیچر ڈالا اور اسکول کھول لیا۔ اسکول دن دونی رات چوگنی ترقی کرتا گیا مگر اس ساری ترقی میں مارا گیا بے چارہ استاد۔ کیونکہ اسکول پر خرچ کیے جانے والے اخراجات اور ’’مالک اسکول‘‘ کے گھریلو مصارف، جو قابل رشک ہوتے ہیں پورے کرنے کے لیے نزلہ عضو ضعیف ہی پر گرا کہ اسکول کی عمارت بھی اچھی، نصابی کتابیں بھی مہنگی، جو مقررہ دکان سے حاصل کی جا سکتی ہیں اور اس دکان کا تعلق بھی اتفاق سے اسکول ہی سے ہوتا ہے۔

اسکول کی فیس بھی اتنی کہ اسکول ’’معیاری‘‘ سمجھا جائے۔ مگر استاد کی تنخواہ ناقابل یقین حد تک قابل رحم۔ شاید اس وقت سرکاری گریڈ کے مطابق گریڈ 1 کے ملازم جو چپراسی، چوکیدار وغیرہ ہوتے ہیں کی تنخواہ 5 ہزار سے زائد ہے۔ بعض نجی اسکولوں میں جو گلی محلوں میں کھلے ہوئے ہیں ٹیچر کی تنخواہ اتنی ہی یا اس سے کچھ زیادہ ہے۔ یہ نجی اسکول اپنے مالک کی خوش حالی میں اضافہ کرنے کے علاوہ کوئی خدمت انجام نہیں دے رہے سوائے اس کے کہ اگر یہ بھی نہ ہوتے تو کراچی جیسے شہر میں ابتدائی تعلیم بھی عنقا ہو کر رہ جاتی اور شاید یہی ان اسکولوں کے وجود کا جواز بھی ہے۔

یہ تو اسکول سطح کے ’’غیر فیشن ایبل‘‘ اسکولوں کا حال ہے۔ اعلیٰ سطح کے نجی اسکول ’’اعلیٰ سطح کی فیسوں‘‘ مہنگی غیر ملکی کتابوں، انگریزی زبان سے آشنائی وغیرہ کے سبب تعلیمی مصارف کی اس انتہا پر فائز ہیں جہاں تک رسائی میں عام آدمی کے پَر جلتے ہیں۔

تعلیم اور معلم کی یہ رسوائی اب ’’اسکول ایجوکیشن‘‘ سے بڑھ کر اعلیٰ تعلیمی اداروں تک پہنچ گئی ہے۔ اب یونیورسٹی سطح تک تعلیم ’’نجی‘‘ سیکٹر میں آ چکی ہے۔ وضع وضع کی ہر قسم کی تعلیم کی یونیورسٹیاں کھل گئی ہیں، اب یونیورسٹی جامعہ نہیں رہ گئی بلکہ جس طرح طب کی دنیا میں ناخن کا الگ، گھٹنے کا الگ، پیٹ کا الگ، گردے کا الگ علی الاہٰذالقیاس اسی طرح جامعات بھی ’’یک فنی‘‘ اور ’’کثیر الشاخ‘‘ جامعات میں تبدیل ہو گئی ہیں اور اب ان جامعات میں تدریسی مصارف ’’بین الاقوامی‘‘ معیار کے مطابق ہیں۔

تعلیم کی اس گرم بازاری میں سرکاری جامعات کا جو حشر ہوا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ کراچی کی نہایت معتبر جامعات اپنے ملازمین کو تنخواہ تک بروقت نہیں دے پاتیں۔ اس ابتری کا سبب معلوم نہیں کیا ہے۔ سرکار گرانٹ بھی دیتی ہے، ان سرکاری جامعات نے اپنی فیس بھی خاصی بڑھا دی ہے کہ انھیں غربت و فنڈز کی کمی کا طعنہ نہ دیا جائے مگر ان جامعات کے اساتذہ کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔سب سے زیادہ ناگفتہ بہ حالت سبکدوش ملازمین کی ہے۔

پنشن کا رواج اس لیے پڑا تھا کہ ایک شخص تقریباً 30 سال اپنی بہترین ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو صرف کرکے ملکی، تعلیمی فرائض انجام دیتا ہے اس کی اس جاں فشانی کے اعتراف میں سبکدوشی کے بعد اسے ایک فارمولے کے تحت پنشن دی جاتی ہے مگر یہ پنشن اب خدمات کا اعتراف نہیں صدقہ و خیرات بن کر رہ گئی ہے۔یہ فرض کر لیا گیا ہے ملازم ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا۔ اب اس کی تمام ذمے داریاں ختم ہو گئیں نہ اسے کھانے کی ضرورت نہ کپڑے کی، علاج جو اس عمر میں دو گنا چو گنا بڑھ جاتا ہے اس کی ضرورت نہیں، بس اب پنشنر کو جب اور جس طرح آپ چاہیں پنشن ادا کریں ورنہ وہ اپنے مقدر کو روتا رہے۔

ہر پہلی تاریخ اخبار والا، پانی والا، دودھ والا اور نہ جانے کون کون والا تقاضا کرتا ہے کہ اس کو پیسہ دیا جائے۔ اب اگر اس سے کہا جائے کہ ابھی پنشن نہیں ملی تو وہ یقین کرنے کو تیار نہیں ہوتے اور آپ اپنی پیشانی پر دروغ گوئی کے جھوٹے نشان کو لیے پھرتے رہیے۔

استاد کی جو عزت تھی وہ یوں مٹی میں ملتی رہتی ہے اور یہ سارے لوگ اور وہ ساری ضروریات جو زندگی سے وابستہ ہیں آپ کو پریشان کرتی رہتی ہیں۔ نہ اس ذلت سے بچنے کی کوئی سبیل ہے نہ اس ظلم کی کوئی داد رسی ہے۔ یہ معاشرہ اب ہر بامعنی سرگرمی سے عاری ہو چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے کا الگ

پڑھیں:

نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟

فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔

’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔

اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔

یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔

دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا