ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستان کیلئے 381 ملین ڈالرز کے منصوبوں کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
ایشیائی ترقیاتی بینک (اےڈی بی) نےپاکستان کیلئے پنجاب میں زراعت، تعلیم اور صحت کے لیے 381 ملین ڈالر کی تین اہم منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ تعلیم، صحت اور زرعی مشینری میں سرمایہ کاری پنجاب کی ترقی میں تبدیلی لے آئے گی۔ 120 ملین ڈالر قرض اور 4 ملین ڈالر گرانٹ پنجاب میں جدید، ماحولیاتی طور پر پائیدار زرعی مشینری کو فروغ دینے کے لیے دی گئی۔
مزید برآں منصوبے سے220,000 دیہی خاندانوں کو فائدہ ہوگا۔ منصوبہ چھوٹے کسانوں کو جدید مشینری فراہم کرے گا اور 15,000 خواتین کی مہارتیں بڑھائے گا۔ پنجاب پاکستان کی غذائی ضروریات کا مرکز ہے۔ گندم 75 فیصد چاول 69 فیصد, مکئی کی91 فیصد پیداوار ہے۔
اے ڈی بی نے پرانے آلات کے استعمال سے پیدا ہونے والے نقصان اور فصل کی باقیات جلانے سے ہونے والی آلودگی کم کرنے پر زور دیا۔
اے ڈی بی نے 107 ملین ڈالر کی منظوری دی ہے جس میں 100 ملین ڈالر قرض اور 7 ملین ڈالر گرانٹ شامل ہیں تاکہ ثانوی سطح پر ایس ٹی سی ایم تعلیم کو جدید بنایا جا سکے۔
اے ڈی بی نے 150 ملین ڈالر قرض کی منظوری دی تاکہ نرسنگ تعلیم کو بہتر بنایا جا سکے اور صحت کے شعبے میں مضبوط ورک فورس تیار کی جا سکے۔ نئے نصاب، فیکلٹی کی تربیت، اور ڈیجیٹل ایچ ار سسٹم کے ذریعے پنجاب میں اہل نرسوں کی تعداد بڑھائی جائے گی۔
منصوبے کے تحت تین لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں جدید سینٹرز آف ایکسیلنس قائم وتربیتی مراکز بنائے جائیں گے جن میں سمیولیشن لیبارٹریز، ڈیجیٹل لرننگ اور جنس کے لحاظ سے مراعات شامل ہوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملین ڈالر کی منظوری
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند