ایک زمانہ تھا کہ کسی بچے سے پوچھو ’’ تم بڑ ے ہو کرکیا بنو گے؟‘‘ تو وہ فورا جواب دیتا تھا کہ ’’میں بڑے ہوکر ڈاکٹر بنوں گا‘‘ پوچھاجاتا کہ ’’ تم ڈاکٹرکیوں بنو گے؟‘‘ تو بچہ جواب دیتا کہ ’’ میں ڈاکٹر بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کروں گا۔‘‘
یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ملک کے گنتی کے سرکاری تحویل میں میڈیکل کالج اور انجینئرنگ کالج یا یونیورسٹیز ہوا کرتی تھیں اور ان اداروں میں خالصتا میرٹ کی بنیاد پر داخلے ملا کرتے تھے۔
اب یہ شوق وجذبہ تقریبا ختم ہی ہوچکا ہے اور ہمارا پڑھا لکھا طبقہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے بیرون ملک روانہ ہوجاتا ہے۔ جن کی مالی حیثیت مستحکم ہوتی ہے وہ اپنے بچوں کو باہرکی اچھی یونیورسٹیوں سے تعلیم دلواتے ہیں۔
یہ سب کیوں ہے؟ ظاہر ہے ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی ناقدری کے علاوہ اور بھی بہت سی خامیاں ہیں۔ معاف کیجیے، یہاں کا سسٹم شریف آدمی کے مزاج کا ہرگز نہیں ہے۔
ہم یہ بھی سنا کرتے تھے کہ کسی بھی ملک کی مشینری ABC Power پر کھڑی ہوتی ہے۔ آرمی، بیوروکریسی (افسر شاہی) اور Capitalist سرمایہ دار یا صنعت کار۔ یہ تینوں اپنی اپنی جگہ طاقت رکھتے ہیں لیکن ان کے کردار اور اثرات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔
ان کا بنیادی طور پر باہمی تعلق ملک کے سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچے کو تشکیل دینا ہوتا ہے۔ فوج (آرمی) کسی بھی ملک کی جغرافیائی سرحدوں، قومی سلامتی اور دفاع کی ذمے دار ہوتی ہے۔
نظم و ضبط ((Disciplineکے لحاظ سے فوج سب سے زیادہ منظم اور مربوط ادارہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ قوت نافذہ کے لحاظ سے فوج کے پاس طاقت کا براہ راست استعمال کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ملک کی سلامتی کے لیے فیصلہ کن کردار بھی ادا کرتی ہے۔
ہنگامی حالات کی صورت میں بعض ممالک میں تو فوج سیاسی عمل میں براہ راست یا بالواسطہ مداخلت کی قوت بھی رکھتی ہے۔ افواج پاکستان اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی وجہ سے دنیا کی بہترین عسکری قوتوں میں سے ایک ہے جس کو نہ صرف دشمن تسلیم کرتا ہے بلکہ پوری دنیا سراہتی ہے۔
پاکستان جغرافیائی لحاظ سے جنوبی ایشیا کے اس خطے پر واقع ہے جس کے اطراف میں ایران، افغانستان، چین اور بھارت واقع ہے۔ بھارت ہمارا ازلی دشمن رہا ہے اور اس سے کئی معرکے بھی ہوچکے ہیں، ادھر افغانستان کی صورتحال بھی کچھ تسلی بخش نہیں جو پاکستان کی سر بلندی اور سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
موجودہ پیچیدہ حالات میں بلاشبہ افواج پاکستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ وزیرستان میں ہماری سپاہ کے نوجوان دہشت گردوں سے مقابلے کے دوران جام شہادت نوش کرچکے ہیں جب کہ اس کے برخلاف پرکشش ماہانہ تنخواہ اورقابل رشک دیگر مراعات پر منحصر بیوروکریسی ( افسر شاہی) وہ طبقہ ہے جو انتظامی معاملات کو چلاتا ہے۔
پالیسی سازی اور قوانین تیارکرنے اور ان کو نافذ العمل کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ افسر شاہی کے پاس عوام کے کاموں کو منظور یا نامنظورکرنے کی طاقت ہوتی ہے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر بیوروکریسی بر قرار رہتی ہے، اس لیے اسے ریاست کا مستقل پائیدار ستون کہا جاتا ہے۔
تعلیم یافتہ افسران معاشی، انتظامی اور سماجی فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ بیوروکریسی کی طاقت کا منبع علم، تجربہ، قانون اور انتظامی اختیار ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری بیوروکریسی نہایت غیر تسلی بخش اور غیر معیاری ہے۔
بیوروکریسی کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ صرف میرٹ کی بنیاد پرچلتا ہے۔ ہر سال ملک میں مقابلے کا امتحان ہوتا ہے، جس میں بمشکل سو یا دو سو کے لگ بھگ امیدواران پاس کر پاتے ہیں۔ تحریری امتحان میں کامیاب ہونیوالے امیدواروں کے انٹرویو ہوتے ہیں اوران میں سے کچھ تو انٹرویو میں ناکام ہوجاتے ہیں۔
تمام پروسیس سے گزرنے کے بعد ان کو ایڈمنسٹریٹو اکیڈمی والٹن لاہور تربیت کے لیے جوائن کرایا جاتا ہے، جہاں ان کی برین واشنگ کر کے ان کو حکمرانی کی تربیت دینے کا آغاز ہوجاتا ہے۔ ان میں سے کچھ سول انتظامیہ کا حصہ بنتے ہیں اور اسی طرح بالترتیب پولیس،کسٹم، ڈپلومیٹس اورکچھ ٹیکسیشن کا حصہ بنتے ہیں۔
ان کامیاب ہونیوالے امیدواروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ملک کے بہترین دماغ ہیں۔ اس امتحان کی خاص بات یہ ہے کہ خالصتا بلاتفریق رنگ و نسل یہ امیدوارکی ذہانت و قابلیت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب عوام کی خدمت کے لیے آتے ہیں۔
لیکن قابل افسوس امر یہ ہے کہ ان کو حکمرانی کی تربیت کچھ اس طرح سے دی جاتی ہے کہ جب سول انتظامیہ میں آتے ہیں تو سب سے پہلے کالے چشمے اور واسکٹ پہن کر فورس کے ہمراہ بازاروں میں نکل جا تے ہیں اور ناجائز تجاوزات کے خلاف مہم شروع کردیتے ہیں۔
فٹ پاتھوں پر لگی غیر قانونی چھابڑیاں الٹ دیتے ہیں اور ریڑیاں اٹھوا لیتے ہیں، جو پولیس میں جاتے ہیں وہ چمکدار اور اجلی حکومتی وردی پہن کر نشیوں اور بھکاریوں سے شہرکو خالی کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔
قوم کی خدمت کے لیے ان کے ساتھ ساتھ کیمرہ بھی ہوتا ہے جو سوشل میڈیا کے لیے ان کی خدمات کوگاہے بگاہے ریکارڈ کرتا رہتا ہے۔
یاد رہے کہ ہمارے یہ نوجوان کسی دیسی کالج سے پڑھ کر آئے ہوں یا باہر سے ڈگری لے کر آئے ہوں، سروس میں آتے ہی ان کا چلبل پانڈے نکل کر آجاتا ہے جو ایک ہاتھ سے کالا چشمہ اتارتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے قوم کو درست راستے پرچلنے کی راہ دکھاتا ہے۔
کچھ زیادہ درد مند نوجوان افسران عوام کی بھلائی کے لیے کھلی کچریاں بھی لگاتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ گریڈ 17کے افسرنہ ہوں بلکہ محنتی مغل شہزادے ہوں۔ انھیں اپنے دفاتر کے کام کے بارے میں قطعا معلومات اور نہ ہی کام کا تجربہ ہوتا ہے۔
وہ تین الفاظ What - Why and As Proposed فائلوں کی نوٹ شیٹس پر لکھنا جانتے ہیں۔گزشتہ دہائیوں سے CSS (Central Superior Services) کا رجحان کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے۔
سوشل میڈیا اور دوسرے ماس میڈیا ذرایع پر اس کا خوب چرچا کیا جا رہا ہے۔ ملک سے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل امیدوار اس امتحان کے ذریعے پولیس،کسٹمز، فارن سروس، ٹیکسیشن، ڈسٹرکٹ منیجمنٹ گروپ کے اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اورکمشنر اور دوسرے دیگر شعبوں کے اعلیٰ عہدے جیسی اعلیٰ بااختیار ذمے دار عہدے حاصل کرسکتے ہیں۔
سول انتظامیہ کے یہ عہدے عوام کی خدمت کے متقاضی ہیں اور ہر سیاسی حکومت کے لیے رہنما ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ آخر سی ایس ایس کا کریزکیوں ہے اور مزید کیوں بڑھتا جا رہا ہے؟
قارئین! کبھی آپ نے اس امر پر غورکیا۔ حد تو یہ ہوگئی ہے کہ پروفیشنل ڈاکٹرز، انجینئرز اور دوسرے پروفیشنلز اپنے مخصوص اور حساس انسانی خدمات کے شعبے ترک کر کے اس امتحان کے ذریعے ان عہدوں کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں۔ آخرکیوں؟
اس کی بڑی وجہ دن رات میں دولت مند بننے کی دلی آرزو، مادیت پرستی، ہوس زر اور مال و دولت، طاقت کا حصول۔ یہی وہ بنیادی عناصر ہیں جو کرپشن کو جنم دیتے ہیں۔
پولیس،کسٹمز اور ڈسٹرکٹ منیجمنٹ اس میں پیش پیش ہیں۔کہاجاتا تھا کہ ’’ کھیلوگے،کودو گے، ہوگے خراب، پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب‘‘ شاید یہ محاورہ اس امتحان کے لیے ہی کہا گیا ہوگا۔ ملک کے اندرونی ڈھانچے کی تکمیل و تشکیل اسی بیوروکریسی کی متقاضی ہے۔
جتنی ایمانداری، دیانتداری اور محب وطنیت کے ساتھ بیوروکریسی کا عمل ہوگا، اتنا ہی ملک میں انتظامی ڈھانچہ مستحکم ہوگا۔ ملک کے خزانے کا کثیر سرمایہ ان افسران کی تربیت پر خرچ ہوجاتا ہے جو عوام کے خون پسینے کی کمائی سے جمع ہوتا ہے، وہ اس طرح سے برباد ہوجاتا ہے لیکن ان حقائق کے باوجود اس امرسے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ معاشی مستحکم کے بغیر یہ دونوں قوتیں بے معنی اور بے اثر رہ جاتی ہیں۔
ماضی گواہ ہے کہ کسی بھی ملک کے معاشی وسائل پرکنٹرول سرمایہ دار طبقہ کرتا ہے۔ جس کے تحت بڑے بڑے کاروبار، صنعتوں اور مالی معاملات کی نگرانی، ملک کے شہریوں کو روزگارکی فراہمی وغیرہ۔ بعض ممالک میں سرمایہ دار یا صنعت کار حکومتوں کی تیارکردہ پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہوجاتے ہیں۔
صنعتی پیداوار، تجارت اور برآمدات و درآمدات کے ذریعے ملک کی معاشی ترقی اور خوشحالی میں بائیس خاندانوں کا نام سرفہرست ہے۔ سرمایہ دارانہ طاقت کا اصل منبع سرمایہ، منڈی اور مالیاتی اثر و رسوخ پر ہے۔
پاکستان کے قیام کی تاریخ گواہ ہے کہ تینوں ستونوں میں پاک افواج اور صنعت کارکی کارکر دگی مجمو عی طور پرقابل تعریف رہی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک ہماری افواج کے ہر سپاہی کو وہ قوت عطا کرے اور شہدا کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ (آمین)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرمایہ دار تے ہیں اور ہوجاتا ہے اور دوسرے ا جاتا ہے ہوتے ہیں ہوتی ہے طاقت کا کی خدمت ہوتا ہے کے ساتھ ا تے ہی ملک کی تھا کہ ہے اور ملک کے اور ان کے لیے
پڑھیں:
میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
دنیا کے سب سے مقبول کھیل فٹبال کا سب سے بڑا ایونٹ، فیفا ورلڈ کپ 2026، 12 جون سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہو رہا ہے۔ اس بار ٹورنامنٹ کئی حوالوں سے تاریخ ساز ثابت ہونے جا رہا ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ 48 قومی ٹیمیں عالمی اعزاز کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی جبکہ مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی اس عظیم مقابلے کا حصہ ہوں گے۔
1248 players. 48 nations. Locked in. ????
The Official Squad Lists for #FIFAWorldCup 2026 are here ⤵️
— FIFA World Cup (@FIFAWorldCup) June 2, 2026
فیفا کی جانب سے تمام 48 ٹیموں کے حتمی اسکواڈز کی منظوری کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ورلڈ کپ 2026 کھلاڑیوں، ٹیموں اور میچوں کی تعداد کے اعتبار سے تاریخ کا سب سے بڑا فٹبال ٹورنامنٹ ہوگا۔ ایونٹ میں شریک ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں چار چار ٹیمیں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو سابقہ ورلڈ کپ ایڈیشنز کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: امریکا نے ایرانی فٹبال ٹیم کو قیام کی اجازت نہیں دی، ٹیم میکسیکو میں رہے گی
میڈیا رپورٹس کے مطابق 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں، جبکہ 891 کھلاڑی پہلی مرتبہ اس عالمی اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ ماہرین کے مطابق نئے اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا یہ امتزاج ٹورنامنٹ کو مزید دلچسپ اور غیر متوقع بنا سکتا ہے۔
World Cup is exactly TWO weeks away. ???? #FIFA pic.twitter.com/NFDxw8uKlO
— World Cup 2026 (@WorldCupMedia) May 28, 2026
بین الاقوامی میڈیا نے ورلڈ کپ 2026 کو ’فٹبال کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ جامع عالمی مقابلہ‘ قرار دیا ہے۔ عالمی نشریاتی اداروں کا کہنا ہے کہ ٹیموں کی تعداد میں اضافے سے نہ صرف مقابلہ زیادہ سخت ہوگا بلکہ دنیا کے نئے خطوں اور ابھرتی ہوئی فٹبال قوموں کو بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا۔
اس ورلڈ کپ کی ایک اور نمایاں خصوصیت عالمی فٹبال کے دو عظیم ترین ستاروں، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو، کی ممکنہ تاریخی شرکت ہے۔ دونوں کھلاڑی اپنے چھٹے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔ میکسیکو کے تجربہ کار گول کیپر گیلرمو اوچوا بھی چھٹی مرتبہ ورلڈ کپ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں، جو عالمی فٹبال میں ایک منفرد ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
ورلڈ کپ 2026 کئی نئی قومی ٹیموں کے لیے بھی یادگار ثابت ہوگا۔ کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے فائنل مرحلے میں پہنچے ہیں۔ ان ٹیموں کی شمولیت کو فٹبال کی عالمی توسیع اور کھیل کے بڑھتے ہوئے دائرہ اثر کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
عمر کے اعتبار سے بھی اس بار ٹورنامنٹ منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ایونٹ میں شامل سب سے کم عمر کھلاڑی کی عمر صرف 17 برس ہے جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں 7 ایسے کھلاڑی شریک ہیں جن کی عمر 40 برس سے زیادہ ہے، جبکہ 22 کھلاڑی 20 سال سے کم عمر ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار نوجوان ٹیلنٹ اور تجربے کے دلچسپ امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔
The 2026 FIFA World Cup ???? ⚽ is making its triumphant return to North America, sparking huge excitement across the continent for the world's biggest football tournament, which kicks off on June 11 in Mexico.
Here's your quick guide ????https://t.co/li1RCedN1h
— TRT World (@trtworld) June 1, 2026
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی نہ صرف شمالی امریکا میں فٹبال کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی کھیل کی تجارتی اور ثقافتی اہمیت میں اضافہ کرے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ناظرین، آمدنی اور ڈیجیٹل رسائی کے کئی نئے ریکارڈ قائم کرے گا۔
فٹبال شائقین کی نظریں اب 12 جون پر مرکوز ہیں، جب دنیا بھر کی 48 بہترین ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے اپنی مہم کا آغاز کریں گی اور تاریخ کے سب سے بڑے فیفا ورلڈ کپ کا باقاعدہ افتتاح ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رونالڈو فٹبال ورلڈ کپ 2026 فیفا ورلڈ کپ میسی