تیار ہونے والی دوا پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی غیر قانونی چینلز کے ذریعے سپلائی کی جاتی رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں کینسر کے مریضوں کیلئے جعلی دوا بنانے والی فیکٹری پر چھاپے میں ادویہ کی بڑی کھیپ پکڑی گئی۔ ذرائع ایف آئی اے کے مطابق اینٹی کرپشن سرکل نے شہر کے مضافاتی علاقے احسن آباد میں کارروائی کرتے ہوئے جعلی اور غیر رجسٹرڈ ادویات بنانے والی فیکٹری پر چھاپہ مارا، جہاں سے کینسر کے مریضوں کیلئے تجویز کردہ درد کش دوا کی بہت بڑی کھیپ تحویل میں لے لی گئی۔ فیکٹری میں دوا کی قانونی ڈوز زیادہ سے زیادہ 50 ملی گرام ہے، مگر فیکٹری میں 225 ایم جی دوا تیار کی جا رہی تھی، جو بہت خطرناک اور بعض صورتوں میں جان لیوا ہے۔

تیار ہونے والی دوا پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی غیر قانونی چینلز کے ذریعے سپلائی کی جاتی رہی ہے۔ ایف آئی اے کی  کارروائی کے دوران اس دوا کی ایک کھیپ کو منڈیوں کیلئے بھی روک دیا گیا۔ غیر قانونی جعلی ادویات، (خام مال) اور پکڑی گئی مشینری کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے۔ کارروائی کے دوران متعدد گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں، جبکہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں