کینسر کے مریضوں کیلیے جعلی دوا بنانے والی فیکٹری پر چھاپا، بڑی کھیپ پکڑی گئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد میں کینسر کے مریضوں کے لیے جعلی دوا بنانے والی فیکٹری پر چھاپے میں ادویہ کی بڑی کھیپ پکڑی گئی۔
ذرائع ایف آئی اے کے مطابق اینٹی کرپشن سرکل نے شہر کے مضافاتی علاقے احسن آباد میں کارروائی کرتے ہوئے جعلی اور غیر رجسٹرڈ ادویات بنانے والی فیکٹری پر چھاپا مارا، جہاں سے کینسر کے مریضوں کے لیے تجویز کردہ درد کش دوا کی بہت بڑی کھیپ تحویل میں لے لی گئی۔
فیکٹری میں دوا کی قانونی ڈوز زیادہ سے زیادہ 50 ملی گرام ہے مگرفیکٹری میں 225 ایم جی دوا تیار کی جارہی تھی ، جو بہت خطرناک اور بعض صورتوں میں جان لیوا ہے۔ تیار ہونے والی دوا پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی غیر قانونی چینلز کے ذریعے سپلائی کی جاتی رہی ہے۔
ایف آئی اے کی کارروائی کے دوران اس دوا کی ایک کھیپ کو منڈیوں کے لیے بھی روک دیا گیا۔ غیر قانونی جعلی ادویات،(خام مال) اور پکڑی گئی مشینری کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران متعدد گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں جب کہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔