Daily Mumtaz:
2026-07-24@02:08:25 GMT

نبی کریم ﷺ کے دور میں بننے والی ہندوستان کی پہلی مسجد

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

نبی کریم ﷺ کے دور میں بننے والی ہندوستان کی پہلی مسجد

اسلام کی عالمگیر تاریخ کا ایک نہایت اہم اور ایمان افروز باب ہندوستان میں پہلی مسجد کی تعمیر ہے، جسے آج ”چیرامن جُمعہ مسجد“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ مسجد ریاست کیرالہ کے تاریخی شہر کوڈُنگَلور میں واقع ہے اور اسے برصغیر میں اسلام کی آمد کی اولین اور اہم ترین نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق اس مسجد کی تعمیر 629 عیسوی میں ہوئی، جو نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے مبارک دور کا زمانہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس مسجد کو عالم اسلام میں ایک منفرد اور غیر معمولی مقام حاصل ہے۔

کیرالہ کی اسلامی روایات اور بعض تاریخی ماخذ کے مطابق اس مسجد کی تعمیر کا پس منظر اس وقت کے مقامی حکمران چِرامَن پِرومَل کے قبولِ اسلام سے جڑا ہوا ہے۔

روایت کے مطابق انہوں نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا حیرت انگیز واقعہ (شق الاقمر) دیکھا، جس کے بارے میں عرب تاجروں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ معجزہ آخری نبی ﷺ کا ہے۔ اس کے بعد وہ عرب کی طرف روانہ ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ واپسی سے قبل انہوں نے اپنے علاقے میں مسجد تعمیر کرنے کی ہدایت جاری کی۔

اس مسجد کی تعمیر اور اسلام کی دعوت کے فروغ میں مشہور تابعی اور بزرگ عالم مالک بن دینار کا نام خاص طور پر نمایاں ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق وہ عرب سے ہندوستان آئے اور انہوں نے کیرالہ کے ساحلی علاقوں میں اسلام کی تبلیغ کی اور کئی مساجد کے قیام میں کردار ادا کیا۔

بعض تاریخی روایت کے مطابق، چرمن پرومل مکہ میں قیام کے دوران وفات پا گئے تھے۔ اپنی موت سے قبل انہوں نے خطوط لکھے اور اپنے دوستوں کے ذریعے مقامی حکمرانوں کو بھیجے۔ خطوط میں چرمن پرومل نے کہا کہ مالِک بن دینار اور ان کے ساتھیوں کا احترام کیا جائے اور انہیں مساجد بنانے کی اجازت دی جائے۔ بعد میں یہ خطوط مالِک بن دینار کے ہاتھ لگے اور اسی کے نتیجے میں ہندوستان کی پہلی مسجد، چرمن جمعہ مسجد، کوڈُنگَلور میں قائم ہوئی۔ مالِک بن دینار نے بعد میں کیرالہ کے مختلف علاقوں میں بھی مساجد قائم کیں۔ روایت میں چرمن پرومل کے انتقال کی جگہ عمان کے علاقے ظُفار کا ذکر بھی موجود ہے۔

ان روایات کا ذکر متعدد تاریخی کتابوں میں ملتا ہے جن میں امام ابن حجر عسقلانی کی ”الاصابہ فی تمییز الصحابہ“، شیخ زین الدین مخدوم کی ”تحفة المجاہدین“ اور برطانوی مؤرخ ولیم لوگن کی ”مالابرمینوئل“ شامل ہیں۔ اگرچہ جدید مؤرخین اس روایت کو تاریخی روایت اور مقامی روایت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔


کوڈُنگَلور کا علاقہ قدیم زمانے میں ’موزِرِس‘ نامی عظیم بندرگاہ کے قریب واقع تھا، جو اس دور میں عالمی تجارت کا ایک بڑا مرکز تھا۔ عرب تاجر صدیوں سے یہاں آتے تھے اور مقامی آبادی کے ساتھ تجارت کے ساتھ ساتھ اپنے اعلیٰ اخلاق اور کردار کے ذریعے اسلام کا پیغام بھی پہنچاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کیرالہ ہندوستان کا وہ خطہ بنا جہاں سب سے پہلے اسلام متعارف ہوا اور مقامی سطح پر قبول کیا گیا۔

یہ مسجد اپنی تعمیر کے بعد سے مسلسل موجود ہے اور مختلف ادوار میں اس کی مرمت اور توسیع ہوتی رہی جس میں 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں گنبد اور مینار بھی شامل ہوئے، تاہم 2022 کی مرمت میں انہیں ہٹا کر قدیم ساخت کو زیادہ سے زیادہ بحال کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ اس کی اصل تاریخی حیثیت برقرار رہے۔

حالیہ برسوں میں کیرالہ حکومت کے موزِرِس ہیریٹیج پروجیکٹ کے تحت اس مسجد کی باقاعدہ بحالی اور تحفظ کا کام کیا گیا، جس کا مقصد اس عظیم اسلامی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنانا تھا۔

کیرالہ کے مسلمان، جنہیں تاریخی طور پر ’مپیلا‘ کہا جاتا ہے، صدیوں سے اس خطے کی تجارت، ثقافت اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کی تاریخ براہ راست ان ابتدائی عرب تاجروں اور مبلغین سے جڑی ہوئی ہے جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں یا اس کے فوراً بعد یہاں پہنچے۔ یہی وجہ ہے کہ کیرالہ کی اسلامی روایت کو برصغیر میں سب سے قدیم اسلامی روایات میں شمار کیا جاتا ہے۔

چیرامن جمعہ مسجد نہ صرف ایک تاریخی عبادت گاہ ہے بلکہ یہ مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی بھی ایک خوبصورت مثال ہے۔ مقامی روایات کے مطابق رمضان المبارک کے دوران اس مسجد میں افطار کے انتظام میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی حصہ لیتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ اسلام نے اس خطے میں امن، احترام اور باہمی بھائی چارے کو فروغ دیا۔​

یہ مسجد آج بھی اس حقیقت کی زندہ علامت ہے کہ اسلام اپنی ابتدا ہی سے ایک عالمگیر مذہب تھا اور نبی کریم ﷺ کی زندگی مبارک میں ہی اس کا پیغام عرب سے نکل کر دنیا کے دور دراز علاقوں تک پہنچ چکا تھا۔

چیرامن جمعہ مسجد نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک تاریخی اور روحانی ورثہ ہے، آج بھی یہاں باقاعدہ نمازیں ادا ہوتی ہیں اور مختلف مذاہب کے لوگ یہاں تاریخ، ثقافت اور مذہبی ہم آہنگی کے پیغام کو سمجھنے کے لیے آتے ہیں۔

تاریخی حوالہ جات میں خاص طور پر ”تحفة المجاہدین، ”الاصابہ فی تمییز الصحابہ“، ”مالابر مینوئل“، ”ہسٹری آف کیرالہ“ اور آثار قدیمہ کے سرکاری ریکارڈ شامل ہیں، جن میں اس مسجد اور کیرالہ میں اسلام کی ابتدائی تاریخ کا ذکر موجود ہے۔ یہ تمام شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برصغیر میں اسلام کی جڑیں انتہائی قدیم اور نبی کریم ﷺ کے مبارک دور سے قریب تر زمانے تک پہنچتی ہیں، اگرچہ بعض جدید محققین اس کی تعمیر کے زمانے پر تحقیقی تنقید بھی کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مسجد کی تعمیر میں اسلام کی اس مسجد کی کیرالہ کے انہوں نے کے مطابق جاتا ہے کے دور

پڑھیں:

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )  پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے  انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی  تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے  پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔

وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید  کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی