پاکستان اور قطرکی انسداد منشیات آپریشن میں ایک اور تاریخی کامیابی
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان اور قطر نے انسدادِ منشیات کے شعبے میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کر لی، جہاں مشترکہ آپریشن کے دوران اسلام آباد ایئرپورٹ پر 4.48 کلوگرام کوکین اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
اینٹی نارکوٹکس فورس نے قطری حکام کے تعاون سے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کامیاب کارروائی کی۔ ذرائع کے مطابق اے این ایف نے ایک پاکستانی خاتون مسافر کو ایئرپورٹ پر روکا جو شارجہ سے دوحہ کے راستے اسلام آباد پہنچی تھی۔
خاتون کے ہاتھ میں موجود ٹرالی بیگ کی مکمل تلاشی کے دوران 4.
ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمہ نے انکشاف کیا کہ اس کا ہینڈلر اور مطلوبہ وصول کنندہ ایئرپورٹ پر ہی موجود ہے۔ اطلاع ملنے پر اے این ایف نے فوری فالو اپ کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ شخص کو اس کی گاڑی سمیت گرفتار کر لیا۔
حکام کے مطابق یہ کامیاب کارروائی پاکستان اور قطر کے درمیان بہتر انٹیلی جنس شیئرنگ اور مؤثر عملی تعاون کا واضح ثبوت ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کا کہنا ہے کہ منشیات اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی تاکہ نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔