ڈرون حملے سے چرنوبل نیوکلیئر پلانٹ کی حفاظتی شیلڈ کو نقصان
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
یوکرین کے جنگ زدہ علاقے میں واقع چرنوبل نیوکلیئر پلانٹ کی حفاظتی شیلڈ ڈرون حملے کے بعد اپنی بنیادی حفاظتی صلاحیت برقرار نہ رکھ سکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایٹمی نگرانی کی ایجنسی آئی اے ای اے نے تصدیق کی ہے کہ حملے سے ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جس کی ذمہ داری یوکرین نے روس پر عائد کی تھی، تاہم تابکاری کی سطح بدستور معمول کے مطابق ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی ایٹمی توانائی کی نگران ایجنسی نے جمعے کو بتایا ہے کہ یوکرین کے چرنوبل نیوکلیئر پلانٹ کی وہ سٹیل شیلڈ، جو 1986 کے دھماکے کے بعد ریڈیو ایکٹو مواد کو قابو میں رکھنے کے لیے 2019 میں تعمیر کی گئی تھی، اب اپنی بنیادی حفاظتی ذمہ داری ادا نہیں کر پا رہی۔ ایجنسی کے مطابق یہ نقصان فروری میں ہونے والے ڈرون حملے کے بعد سامنے آیا۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے بیان میں کہا کہ گزشتہ ہفتے کیے گئے معائنے میں پتا چلا کہ حملے سے حفاظتی ڈھانچے کی اہم حفاظتی خصوصیات، خصوصاً مواد کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت، متاثر ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بوجھ برداشت کرنے والے حصوں اور مانیٹرنگ سسٹمز کو مستقل نقصان نہیں پہنچا۔
ایجنسی کے مطابق ابتدائی مرمت کر دی گئی ہے، مگر طویل مدت تک پلانٹ کی نیوکلیئر سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے جامع بحالی ضروری ہے۔
اقوامِ متحدہ نے 14 فروری کو رپورٹ کیا تھا کہ یوکرینی حکام کے مطابق ایک دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون نے پلانٹ پر حملہ کیا، جس سے آگ بھڑک اٹھی اور 1986 کے حادثے میں تباہ ہونے والے ری ایکٹر نمبر 4 کے حفاظتی کور کو نقصان پہنچا۔ یوکرین نے اس حملے کا الزام روس پر لگایا تھا، جبکہ ماسکو نے اس کی تردید کی تھی۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ حملے کے باوجود تابکاری کی سطح معمول پر اور مستحکم رہی، اور کسی قسم کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔
یاد رہے کہ اپریل 1986 میں چرنوبل دھماکے نے پورے یورپ میں تابکاری پھیلا دی تھی، جس کے بعد سوویت حکام نے حادثے کو کنٹرول کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر افرادی قوت اور آلات تعینات کیے تھے۔ پلانٹ کا آخری ری ایکٹر 2000 میں بند کیا گیا تھا۔
روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے ابتدائی ہفتوں میں دارالحکومت کیف کی جانب پیش قدمی کے دوران چرنوبل پلانٹ اور اس کے گردونواح پر ایک ماہ سے زائد قبضہ کیے رکھا۔
آئی اے ای اے کا یہ معائنہ ملک بھر میں جنگ کے دوران بجلی کے سب اسٹیشنز کو پہنچنے والے نقصان کے جائزے کے ساتھ ہی مکمل کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پلانٹ کی کے مطابق حملے کے کے بعد
پڑھیں:
فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔
مزید :