روسی شہریت اختیار کرنے پر یوکرینی ڈائیور پر ’اسپورٹس قرنطینہ‘ کی سفارش کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
یوکرین ڈائیونگ فیڈریشن نے اپنی ڈائیور صوفیہ لِسکُن سے تمام میڈلز اور ایوارڈز واپس لے لیے ہیں، کیونکہ انہوں نے روس کی نمائندگی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ٹوکیو اولمپکس 2020 اور گزشتہ سال پیرس گیمز میں یوکرین کی نمائندگی کرنے والی صوفیہ لسکن نے اس ہفتے کے آغاز میں ایک روسی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی وفاداری بدلنے کا انکشاف کیا۔
یہ بھی پڑھیں: روس پر پابندی لگی تھی تو اسرائیل پر کیوں نہیں؟ قانونی ماہرین کا اسرائیلی فٹ بالز کلبز پر پابندی کا مطالبہ
فیڈریشن کا کہنا ہے کہ صوفیہ لسکن نے روسی شہریت اختیار کرنے کے فیصلے سے نہ تو فیڈریشن، نہ کوچنگ اسٹاف اور نہ ہی یوکرین کی وزارتِ کھیل کو آگاہ کیا۔
https://Twitter.
فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
’یہ نہ صرف ایک کھلاڑی کو بدنام کرتے ہیں بلکہ پوری یوکرینی ٹیم کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں، جو روزانہ عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کے حق کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔‘
یوکرین ڈائیونگ فیڈریشن کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو بین الاقوامی اسپورٹس اداروں کے سامنے بھی اٹھائے گی، تاکہ موجودہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کھلاڑی پر ’اسپورٹس قرنطینہ‘ کا اصول نافذ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: یورپی خدشات کے باوجود یوکرین کا امریکی امن منصوبے پر آمادگی کا اظہار
صوفیہ لسکن نے گزشتہ سال بیلگریڈ میں ہونے والی یورپی ایکواٹکس چیمپیئن شپ میں کثینیہ بائیلو کے ساتھ 10 میٹر سنکرونائزڈ ڈائیونگ میں گولڈ میڈل جیتا تھا، جبکہ 2018 میں گلاسگو میں ٹیم ایونٹ میں بھی سونے کا تمغہ حاصل کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 23 سالہ صوفیہ لسکن نے روس جانے کا فیصلہ کھیل میں اپنی ترقی کے خدشات کی بنا پر کیا گیا، کیونکہ یوکرین میں تمام کوچ جمناسٹ یا ٹرامپولین سے تعلق رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں:آن لائن محبوبہ کی طرف سے زہریلی شراب کا تحفہ، روس نے کیسے اپنے افسر کو مارنے کا یوکرینی منصوبہ ناکام بنایا؟
انہوں نے استفسار کیا کہ جب کوئی مکمل طور پر مختلف شعبے سے ہو تو وہ آپ کو کیا سکھائے گا۔ ’گزشتہ چند سالوں میں یوکرین میں کھیل کے دوران مجھے لگا کہ میری ترقی رک گئی ہے۔‘
واضح رہے کہ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد روسی اور بیلاروسی کھلاڑیوں پر ورلڈ ایکواٹکس ایونٹس میں شرکت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
تاہم بعض ایتھلیٹس کو پابندیوں میں نرمی کے بعد پیرس اولمپکس میں غیر جانبدار حیثیت میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اولمپکس ایتھلیٹ ایوارڈز روس صوفیہ لسکن گلاسگو میڈلز ورلڈ ایکواٹکس یوکرین ڈائیونگ فیڈریشن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اولمپکس ایتھلیٹ ایوارڈز صوفیہ لسکن گلاسگو میڈلز
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔