بھارتی حکومت اوچے ہتھکنڈے استعمال کرکے پاکستان کی ساخت کو نقصان پہنچانا چاہ رہی ہے، بلال سلیم قادری
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ایک بیان میں سیکرٹری جنرل پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ بھارت اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر دنیا کو دھوکہ نہیں دے سکتا کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ خود بھارت دہشت گردی کی سب سے بڑی فیکٹری، انتہا پسندی کا مرکز اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ بن چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی سیکرٹری جنرل پاکستان سنی تحریک صاحبزادہ علامہ بلال سلیم قادری شامی بھارتی سازشوں کے خلاف اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت اپنی انتہاءپسند اور پاکستان دشمن ذہنیت کے تحت اوچھے، گھٹیا اور بزدلانہ ہتھکنڈوں کا سہارا لے کر پاکستان کی عالمی شناخت اور ریاستی وقار کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوششیں کر رہی ہے، بھارتی قیادت کی سوچ، عمل اور پالیسیاں مکمل طور پر تعصب، نفرت اور اشتعال انگیزی پر مبنی ہیں جن کا مقصد دنیا کی توجہ اپنے اندرونی انتشار، معاشی تباہی، انتہاء پسندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے ہٹاکر پاکستان پر الزام تراشی کرنا ہے، مودی سرکار کی پوری سیاسی بنیاد پاکستان مخالف پروپیگنڈے، دشمنی پر مبنی نظریات اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کی روش پر استوار ہے، بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیاں، سفارتی چینلز اور بین الاقوامی لابنگ نیٹ ورکس منظم انداز میں پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے، عالمی سطح پر شکوک پیدا کرنے اور علاقائی توازن کو بگاڑنے میں مصروف ہیں۔
بلال سلیم قادری نے مزید کہا کہ بھارت اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر دنیا کو دھوکہ نہیں دے سکتا کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ خود بھارت دہشت گردی کی سب سے بڑی فیکٹری، انتہا پسندی کا مرکز اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ بن چکا ہے۔ مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ بھارت کی بزدلانہ کارروائیاں اور جھوٹے الزامات دراصل اس کی شکست خوردہ ذہنیت کا ثبوت ہیں، جس ملک میں اقلیتیں غیر محفوظ، عورتیں عدم تحفظ کا شکار، زرعی معیشت تباہ، غربت عروج پر اور نسل پرستی سرکاری پالیسی بن چکی ہو،وہ ملک پاکستان کے حوالے سے اخلاقی بات کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا، بھارت کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت، سرحدی خلاف ورزیاں، سائبر کارروائیاں، عالمی فورمز پر جھوٹے بیانات اور مسلسل نفرت انگیزی کھلی جارحیت کے مترادف ہے جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ بھارت
پڑھیں:
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا حالیہ بیان، جس میں اس نے پاکستان کے صوبہ سندھ کے بارے میں غیر سنجیدہ، غیر حقیقت پسندانہ اور اشتعال انگیز دعویٰ کیا، خطرناک رویے کی تازہ مثال ہے ۔ انڈین وزیردفاع راج ناتھ سنگھ کا صوبہ سندھ سے متعلق دیا گیا بیان غیر حقیقی، اشتعال انگیز اور خطرناک حد تک تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے ۔
انڈین وزیر دفاع کا یہ بیان اُس ہندوتوا سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو بین الاقوامی قوانین، تسلیم شدہ سرحدوں کی حرمت اور ریاستی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی میں ہونے والی فضائی جھڑپوں کے مہینوں بعد بھی سیاسی و عسکری رہنماؤں کی جانب سے سخت بیانات دینے کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے اور انڈین وزیردفاع کا حالیہ بیان اس سلسلے کی تازہ کڑی ہے ۔سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین، تجزیہ کاروں نے اس بیان کو پاکستان کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے اسے علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے ۔انڈین وزیر دفاع اتوار کو دہلی میں سندھی سماج سمیلن کے عنوان سے ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کر رہا تھا جس کی متعدد ویڈیوز اس نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر بھی شیئر کی ہیں۔انڈیا کے وزیر دفاع نے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ سندھی ہندو،بالخصوص اُن کی نسل کے لوگ، آج تک سندھ کو انڈیا سے الگ کرنے کو قبول نہیں کر پائے ہیں۔راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ ناصرف سندھ میں بلکہ پورے انڈیا میں ہندو، سندھو ندی (دریائے سندھ) کو مقدس سمجھتے تھے ۔ سندھ کے کئی مسلمان بھی مانتے تھے کہ دریائے سندھ کا پانی مکہ کے آبِ زمزم سے کسی طور کم متبرک نہیں۔ یہ اڈوانی نے کہا ہے ۔پاکستان نے بجا طور پر اس بیان کی سخت مذمت کی ہے اور اسے خیالی اور خطرناک تشدیدی رویہ قرار دیا ہے ، کیونکہ جب کسی ملک کے دفاع کے ذمہ دار شخص کا لب و لہجہ جنگی سیاست کی ہوا دے تو اس کا مطلب محض سفارتی تناؤ نہیں بلکہ سوچ کے اس زاویے کی جھلک ہوتی ہے جو حقیقت سے زیادہ خواہشات کے سہارے سیاست چلاتا ہے ۔پاکستان نے بالکل درست کہا کہ یہ بیان ایک ایسے وسعت پسند ہندو نوا ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو خطے کی تسلیم شدہ سرحدوں، تاریخی حقائق اور بین الاقوامی قانون کو چیلنج کرنے کا عادی بنتا جا رہا ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارت کی موجودہ سیاسی فضا اس ذہنیت کو نہ صرف قبول کر رہی ہے بلکہ اسے قومی بیانیے کی شکل دینے کی کوشش بھی کر رہی ہے ۔ اس بیانیے میں تاریخ کو نئی شکل دی جاتی ہے ، جغرافیہ کو خواہشات کے مطابق توڑا جاتا ہے ، اور سیاست کو اکثریتی جذبات کے تابع کر دیا جاتا ہے ۔ یہ وہی ماحول ہے جس میں ایسے بیانات پھلتے پھولتے ہیں، اور پھر خطے کا امن صرف چند لفظوں کی قیمت پر کمزور ہو جاتا ہے ۔پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے ردعمل میں واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے ایسی اشتعال انگیز گفتگو بین الاقوامی قانون اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔ دنیا بھر میں سرحدیں بیانات سے تبدیل نہیں ہوتیں، جنگوں سے بھی کم، بلکہ وہ تاریخی حقائق، عالمی معاہدات اور بین الاقوامی تسلیم شدہ اصولوں کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں۔ سندھ نہ صرف پاکستان کا باقاعدہ، مسلمہ اور آئینی صوبہ ہے بلکہ اس کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ایک منفرد تہذیبی سفر رکھتی ہے ۔ اس کا تعلق محض جغرافیے سے نہیں بلکہ شناخت، ثقافت اور ایک پوری قوم کے اجتماعی شعور سے ہے ۔ اس حقیقت کو محض سیاسی فائدے کے لیے نظرانداز کرنا نہ صرف ناسمجھی بلکہ خطرناک جنون ہے ۔
ناگزیر ہے کہ اس بیان کو بھارتی داخلی سیاست کے پس منظر میں سمجھا جائے ۔ بھارت میں پچھلی ایک دہائی سے جس نظریے کو سیاسی ترجیح حاصل ہوئی ہے ، اس کی بنیاد تاریخ کی نئی تعبیر، مذہب کی سیاسی تفہیم اور خطے میں بالادستی کے خواب پر رکھی گئی ہے ۔ ایسے میں پاکستان، چین، نیپال اور سری لنکا کے بارے میں جارحانہ لہجہ اختیار کرنا اس سیاسی سوچ کا حصہ سمجھا جاتا ہے ، جسے بھارتی ووٹ بینک کے ایک خاص طبقے کی تائید حاصل ہے ۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جب ایک ریاست اپنی داخلی شکستوں، اقلیتوں پر ظلم اور معاشرتی عدم توازن کو چھپانا چاہتی ہے تو وہ بیرونی دشمن تراشنے لگتی ہے ، اور بھارتی وزیر دفاع کا سندھ کے حوالے سے بیان اسی سفارتی حکمتِ عملی کی پیداوار ہے ۔ پاکستان نے بالکل بجا نشاندہی کی کہ بھارت کو سب سے پہلے اپنے ان شہریوں کی فکر کرنی چاہیے جو اس کی حدود کے اندر محفوظ نہیں ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی رپورٹس مسلسل یہ گواہی دیتی ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ مذہبی بنیادوں پر تشدد ایک معمول بن چکا ہے ، قانون کے رکھوالے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اور نفرت انگیز گروہ کھلے عام دھمکیاں دے کر سیاست میں اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں حکومت کا فرض یہ بنتا ہے کہ وہ داخلی عدم تحفظ کو کم کرے ، نہ کہ بیرونی سرحدوں کے بارے میں سیاسی اشتعال انگیزی پیدا کرے ۔
علاقائی تناظر میں یہ معاملہ محض پاکستان اور بھارت کا نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کا مسئلہ ہے ۔ یہ خطہ پہلے ہی جوہری ہتھیاروں سے مسلح دو بڑے ممالک کی وجہ سے حساس ہے ۔ یہاں ایک غلط فہمی، ایک غلط بیان یا ایک سیاسی جنون کسی بڑے بحران کی بنیاد بن سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے نہایت دانشمندی سے اس بیان کا جواب سفارتی اصولوں کے تحت دیا، تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے ۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بھارتی قیادت ایسے بیانات سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے ؟ کیا یہ اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ؟ کیا یہ اکثریتی ووٹ کے جذبات کو بھڑکانے کی حکمت عملی ہے ؟ یا پھر یہ خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کا ابتداء ہے ؟ ان سوالات کا جواب وہی دے سکتا ہے جس کے پاس بھارت کی سیاسی حرکات کے پیچھے چھپے محرکات تک رسائی ہو، لیکن خطہ ضرور اس کے نتائج بھگت سکتا ہے ۔
پاکستان کا ردعمل نہ صرف سفارتی زبان میں متوازن تھا بلکہ خطے کے امن کی ترجمانی بھی کرتا ہے ۔ پاکستان نے یہ بھی یاد دلایا کہ سرحدی نقشوں سے کھیلنے والے ممالک دراصل اپنی ہی زمین پر موجود خوف کو چھپاتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جو اندر سے کمزور ہو، جہاں اقلیتیں خوفزدہ ہوں، جہاں تاریخ مسخ کی جاتی ہو، جہاں تعلیم سیاسی بیانیے کا آلہ کار بن جائے ، وہ ہمیشہ بیرونی دشمنوں کا تصور پیدا کرتا ہے تاکہ اندرونی بگاڑ سے توجہ ہٹائی جا سکے ۔ اس وقت بھارت اسی نفسیاتی کیفیت کا شکار ہے ، اور یہی کیفیت خطرے کی گھنٹی ہے ۔
پاکستان نے یہ بھی درست کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ ان عناصر کا احتساب کرے جو نہ صرف اقلیتوں کے خلاف تشدد کو ہوا دیتے ہیں بلکہ اسے عملی طور پر انجام بھی دیتے ہیں۔ اگر بھارتی ریاست واقعی ایک جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے تو اسے اپنی اقلیتوں کو وہی حقوق دینے ہوں گے جن کا ذکر وہ بیرونی دنیا میں کرتا ہے ۔ بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت کے بیانات، پالیسیاں اور طرزِ حکمرانی اس کے جمہوری تشخص کو نہ صرف کمزور کر رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ بھی کم ہوتی جا رہی ہے ۔پاکستان ہمیشہ اس اصول پر قائم رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن، باہمی احترام، سرحدوں کی حرمت اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پابندی سے ہی ممکن ہے ۔ پاکستان نے اپنی طرف سے کبھی بھی توسیع پسند بیانیے کو فروغ نہیں دیا، نہ ہی کسی کے جغرافیے پر دعویٰ کیا۔ اس کی توجہ ہمیشہ خودمختاری، امن، تعاون اور علاقائی ترقی پر رہی ہے ۔ اس کے برعکس بھارت کی جانب سے ایسے بیانات خطے میں بے چینی بڑھاتے ہیں، اور یہ بے چینی مستقبل کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے ۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ امن صرف الفاظ سے نہیں بلکہ رویوں سے قائم ہوتا ہے ۔ بھارت اگر واقعی خود کو ایک ذمہ دار ریاست سمجھتا ہے تو اسے اپنے وزرا کے بیانات میں سنجیدگی لانی ہوگی، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا، سرحدوں کے احترام کو تسلیم کرنا ہوگا، اور خطے کے پڑوسی ممالک کے بارے میں سیاسی اشتعال انگیزی چھوڑنی ہوگی۔ یہی راستہ ہے جو جنوبی ایشیا کو جنگی نفسیات سے نکال سکتا ہے ، عوام کو امن کی طرف لے جا سکتا ہے ، اور مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے ۔ اگر بھارت یہ راستہ اختیار کرے تو خطہ خود بخود استحکام کی طرف جائے گا؛ لیکن اگر اس نے توسیع پسندانہ ذہنیت کو اپنا سیاسی ہتھیار بنائے رکھا تو یہ آگ صرف سرحد پار نہیں بلکہ بھارت کے اپنے اندر بھی پھیلتی چلی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔