ایک بیان میں سیکرٹری جنرل پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ بھارت اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر دنیا کو دھوکہ نہیں دے سکتا کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ خود بھارت دہشت گردی کی سب سے بڑی فیکٹری، انتہا پسندی کا مرکز اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ بن چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی سیکرٹری جنرل پاکستان سنی تحریک صاحبزادہ علامہ بلال سلیم قادری شامی بھارتی سازشوں کے خلاف اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت اپنی انتہاءپسند اور پاکستان دشمن ذہنیت کے تحت اوچھے، گھٹیا اور بزدلانہ ہتھکنڈوں کا سہارا لے کر پاکستان کی عالمی شناخت اور ریاستی وقار کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوششیں کر رہی ہے، بھارتی قیادت کی سوچ، عمل اور پالیسیاں مکمل طور پر تعصب، نفرت اور اشتعال انگیزی پر مبنی ہیں جن کا مقصد دنیا کی توجہ اپنے اندرونی انتشار، معاشی تباہی، انتہاء پسندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے ہٹاکر پاکستان پر الزام تراشی کرنا ہے، مودی سرکار کی پوری سیاسی بنیاد پاکستان مخالف پروپیگنڈے، دشمنی پر مبنی نظریات اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کی روش پر استوار ہے، بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیاں، سفارتی چینلز اور بین الاقوامی لابنگ نیٹ ورکس منظم انداز میں پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے، عالمی سطح پر شکوک پیدا کرنے اور علاقائی توازن کو بگاڑنے میں مصروف ہیں۔

بلال سلیم قادری نے مزید کہا کہ بھارت اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر دنیا کو دھوکہ نہیں دے سکتا کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ خود بھارت دہشت گردی کی سب سے بڑی فیکٹری، انتہا پسندی کا مرکز اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ بن چکا ہے۔ مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ بھارت کی بزدلانہ کارروائیاں اور جھوٹے الزامات دراصل اس کی شکست خوردہ ذہنیت کا ثبوت ہیں، جس ملک میں اقلیتیں غیر محفوظ، عورتیں عدم تحفظ کا شکار، زرعی معیشت تباہ، غربت عروج پر اور نسل پرستی سرکاری پالیسی بن چکی ہو،وہ ملک پاکستان کے حوالے سے اخلاقی بات کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا، بھارت کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت، سرحدی خلاف ورزیاں، سائبر کارروائیاں، عالمی فورمز پر جھوٹے بیانات اور مسلسل نفرت انگیزی کھلی جارحیت کے مترادف ہے جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہ بھارت

پڑھیں:

جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا

بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43

— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026

رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا