افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن نے طالبان سے یورپ سمیت خطے کو درپیش خطرات سے آگاہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن نے اپنے دورہ برسلز کے دوران طالبان پالیسیوں سے یورپ سمیت خطے کو بڑھتے ہوئے خطرات سے آگاہ کر دیا۔
افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن کے وفد نے 3 سے 5 دسمبر تک برسلز کے دورے میں یورپی قیادت کو خبردار کر دیا۔ یوریشیا ریویو کے مطابق وفد نے انڈیپنڈنٹ ڈپلومیٹ اور یورپین فاؤنڈیشن فار ڈیموکریسی کے اشتراک سے ہونے والی نشستوں میں اپنا موقف بیان کیا۔
افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن وفد کے مطابق طالبان کی حکمرانی افغانستان کو ناکام ریاست کی طرف دھکیل رہی ہے۔ طالبان حکومت کے اثرات براہِ راست یورپ کی سلامتی تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین خطے میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے۔
وفد نے بتایا کہ خواتین کے حقوق کی شدید پامالی، امدادی اداروں پر پابندیوں اور سیاسی عدم شمولیت بنیادی خطرات ہیں۔ *افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن کے وفد نے زور دیا کہ طالبان نے دوحا معاہدے سمیت تمام وعدے توڑتے ہوئے جامع حکومت بنانے کے بجائے محدود گروہ کو اقتدار دیا۔
افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن نے بتایا کہ طالبان کی پالیسیوں کے باعث غیر قانونی نقل مکانی انتہا پسندی کے پھیلاؤ بالخصوص یورپ میں سیکیورٹی خدشات بڑھا رہی ہے۔ وفد نے واضح مطالبہ کیا کہ خطے کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے یورپ اور عالمی برادری دباؤ، پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے ذریعے طالبان کو مجبور کرے۔
وفد نے بتایا کہ صرف سخت اور مربوط عالمی حکمتِ عملی ہی افغانستان کو مکمل تباہی سے بچا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان سے پنپتی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان بھی متعدد بار ناقابل تردید شواہد پیش کر چکا ہے۔ دہشتگردوں کی سرپرستی اور بدترین انسانی حقوق کی پامالی کے باعث طالبان رجیم حکومت امن کی کوششوں کے لیے شدید خطرہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفد نے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔