بلوچستان میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر سمیت 100 علیحدگی پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان کے علاقے سوئی میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر سمیت ایک سو سے زائد افراد نے ہتھیار ڈال دیے۔
کمانڈر وڈیرہ نور علی چاکرانی اور ان کے ساتھیوں نے اسلحہ میر آفتاب احمد بگٹی کے حوالے کیا، مسلح افراد نے ہتھیار پھینک کر پاکستان کا جھنڈا تھام لیا اور ریاست پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھایا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہتھیار ڈالنے والے کمانڈر اور تمام افراد کو قومی دھارے میں شامل ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سوئی ڈیرہ بگٹی میں وڈیرہ نور علی چاکرانی اور سو سے زائد ساتھیوں کا قومی دھارے میں شمولیت کا فیصلہ قابلِ تحسین ہے، یہ واضح پیغام ہے کہ ریاست نے بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، ہتھیار ڈالنے والوں نے پاکستان کا پرچم اٹھا کر امن کے سفر کا آغاز کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو ریاست کی نرمی کو کمزوری سمجھے گا، اس کا آخری دم تک تعاقب کیا جائے گا، ہتھیار پھینک کر آئینِ پاکستان تسلیم کرنے والوں کو گلے لگانے کا عمل بھی جاری ہے، بلوچستان میں ریاست مخالف عناصر کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے ہتھیار
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔