کراچی میں 20سالہ نوجوان لاپتا، 5 روز بعد بھی سراغ نہ مل سکا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہرقائد کے علاقے ضلع وسطی میں تھانہ خواجہ اجمیر نگری کی حدود سے ایک نوجوان گزشتہ کئی دنوں سے لاپتہ ہے، جس کی تلاش میں اہلِ خانہ اور جماعت اسلامی کے کارکنان مصروف ہیں۔
لاپتہ نوجوان کا نام زبیر ولد عبداللہ قریشی ہے، عمر تقریباً 20 سال، رنگت گندمی، درمیانہ قد، اور جب وہ گھر سے نکلا تو لال رنگ کی شرٹ اور پینٹ پہنے ہوئے تھا۔ اہلِ خانہ کے مطابق زبیر کا ذہنی توازن درست نہیں اور اسے مرگی کے دورے پڑتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اہلِ خانہ کی مسلسل کوششوں کے باوجود پولیس نے واقعے کے پانچویں روزروزنامچہ درج کیا، تاہم اب تک اس کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوسکی۔
زبیر کا تعلق جماعت اسلامی نظمِ حلقہ عبداللہ الحمید، علاقہ نارتھ کراچی سے ہے، اور مقامی ذمہ داران نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ جس شخص کو بھی اس نوجوان کے بارے میں کوئی معلومات ہوں یا کہیں اسے دیکھا ہو تو 15 پر فوری طور پر اطلاع دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔