شام میں نئی حکومت کے خلاف بشارالاسد کے ارب پتی کزن کی خفیہ پلاننگ بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
روسی دارالحکومت ماسکو سے شام کے سابق انٹیلی جنس سربراہ کمال حسن اور بشارالاسد کے ارب پتی کزن رامی مخلوف ملک میں بغاوت بھڑکانے کے لیے شامی عسکری گروہوں کو فنڈنگ کر رہے ہیں۔ دونوں سابق طاقتور شخصیات نہ صرف مسلح گروہوں کی تشکیل میں مصروف ہیں بلکہ دونوں کے درمیان بشارالاسد دور کے آخری دنوں میں بنائے گئے 14 زیرِ زمین کمانڈ مراکز پر کنٹرول کے لیے بھی آمنے سامنے ہیں۔
رائٹرز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق بشارالاسد کے وہ قریبی ساتھی جو گزشتہ سال انکی حکومت کے خاتمے کے بعد شام سے فرار ہوئے، اب ماسکو سے کروڑوں ڈالر ان افراد تک پہنچا رہے ہیں جنہیں وہ ممکنہ باغی فورس کے طور پر دوبارہ منظم کرنا چاہتے ہیں۔
ان اقدامات کا مقصد نئے شامی صدر احمد الشرع کی حکومت کے خلاف تحریکیں کھڑی کرکے اپنے کھوئے ہوئے اثر و رسوخ کو بحال کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سابق صدر بشارالاسد خود ماسکو میں خاموشی کی زندگی گزار رہے ہیں، مگر انکے قریبی حلقوں میں شامل کئی طاقتور افراد، بشمول ان کے بھائی ماہر الاسد، اقتدار سے محرومی کو قبول نہیں کر پائے۔
سابق ملٹری انٹیلی جنس چیف میجر جنرل کمال حسن اور بشارالاسد کے بااثر کزن رامی مخلوف ساحلی شام اور لبنان میں اپنی اپنی ملیشیا بنانے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
یہ دونوں شخصیات علوی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں جنگجوؤں کو اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مجموعی طور پر پچاس ہزار سے زائد جنگجوؤں کو مالی مدد دی جارہی ہے۔
ماہر الاسد بھی ماسکو میں موجود ہیں اور ہزاروں سابق فوجیوں پر اثرو رسوخ رکھتے ہیں، مگر اب تک انہوں نے کوئی براہِ راست حکم یا فنڈنگ نہیں کی۔
تاہم ان جلاوطن رہنماؤں کے لیے اس وقت بڑا ہدف وہ 14 خفیہ کمانڈ روم ہیں جو بشارالاسد کے دور کے آخر میں شام کے ساحلی علاقوں میں بنائے گئے تھے۔ ان کمروں میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر آلات موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق اب یہ مقابلہ بشارالاسد کو خوش کرنے کے بجائے اسکے ممکنہ متبادل کی تلاش اور علوی برادری پر کنٹرول کے گرد گھوم رہا ہے۔ کمال حسن مسلسل کمانڈروں کو پیغامات بھیج رہے ہیں جن میں وہ اثر و رسوخ کے کھو جانے پر غصے کا اظہار اور شام کے ساحلی علاقوں پر اپنے مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔
دوسری جانب رامی مخلوف، جو کبھی شامی معیشت کے سب سے طاقتور فرد تھے، اب خود کو ایک مذہبی و ’مسیحائی‘ کردار کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ انکا دعویٰ ہے کہ وہ حتمی معرکے کے بعد دوبارہ اقتدار میں آئیں گے۔
رامی مخلوف برسوں نظر بندی میں رہے اور اس دوران مذہبی رجحان اختیار کرلیا۔ اب وہ ماسکو کے ایک لگژری ہوٹل کی ایک منزل پر سخت سیکیورٹی میں رہائش پذیر ہیں اور سابق اتحادیوں کا پیسہ روس، لبنان اور متحدہ عرب امارات میں موجود نمائندے جنگجوؤں تک پہنچا رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق مخلوف نے اب تک کم از کم 60 لاکھ ڈالر تنخواہوں میں خرچ کیے ہیں جبکہ دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ کچھ گروہوں کو ماہانہ چند ڈالر ملتے ہیں۔ کئی مقامی کمانڈروں نے اعتراف کیا کہ وہ فنڈز کمال حسن اور رامی مخلوف، دونوں سے لیتے ہیں۔
اسی دوران شام کی نئی حکومت ان منصوبوں کا توڑ کرنے کے لیے سابق حکومت کے ایک اور اتحادی خالد الاحمد کو متحرک کر رہی ہے۔ وہ موجودہ صدر الشرع کے بچپن کے دوست ہیں اور ان کا کام علوی کمیونٹی کو یقین دلانا ہے کہ ان کا مستقبل نئی حکومت کے ساتھ ہے۔
شام کے ایک شہر تارتوس کے گورنر احمد الشامی نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ شام کی حکومت ان سازشوں سے آگاہ ہے اور انہیں غیر مؤثر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق زیرِ زمین کمانڈ مراکز موجود تو ہیں، مگر اب زیادہ خطرناک نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ بغاوت اس مرحلے پر کمزور دکھائی دیتی ہے۔ حسن اور مخلوف ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں، اور انہیں روس کی حمایت حاصل نہیں، اور بہت سے علوی جو اسد دور میں خود مشکلوں کا شکار رہے، دونوں رہنماؤں پر اعتماد نہیں کرتے۔
مارچ میں ہونے والی ناکام بغاوت اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات نے شام میں کشیدگی میں مزید اضافہ کیا۔ اس دوران تقریباً 1500 علوی شہری مارے گئے، جبکہ ہزاروں لوگ بے روزگار اور عدم تحفظ کا شکار ہوئے۔ 25 نومبر کو حمص اور ساحلی شہروں میں بڑے پیمانے پر ہونے والے علوی احتجاج نے حکومت کو نئے چیلنجز سے دوچار کیا۔ ان مطالبات میں خواتین کی بازیابی، قیدیوں کی رہائی اور زیادہ علاقائی خودمختاری شامل تھی۔
اگرچہ ان مظاہروں میں حسن اور مخلوف کا ہاتھ نہیں تھا، مگر دونوں نے عوامی غصے کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی۔
دستاویزات کے مطابق بشارالاسد کے حامیوں نے رواں سال کے آغاز میں 5,780 افراد پر مشتمل ایک نئی فورس بنانے کی کوشش کی تھی، جسے زیرِ زمین کمروں سے اسلحہ فراہم کیا جانا تھا۔ تاہم یہ منصوبہ عملی شکل نہ اختیار کر سکا۔
مارچ کی بغاوت کے بعد شام میں طاقت کی نئی جدوجہد میں کمال حسن اور مخلوف نے اپنے حلقے منظم کرنا شروع کیے۔ مخلوف نے خود کو ’ساحل کا بیٹا‘ کہا اور دعویٰ کیا کہ اسے علویوں کی رہنمائی کے لیے ’الہٰی مشن‘ ملا ہے۔
مخلوف نے لبنان، روس اور یو اے ای میں موجود اپنے نمائندوں کے ذریعے رقوم منتقل کیں۔ ان کے مطابق ان کے 80 گروہوں میں 54 ہزار سے زیادہ جنگجو موجود ہیں۔ تاہم مقامی کمانڈروں نے بتایا کہ جنگجوؤں کی بڑی تعداد حقیقی جنگ کے لیے تیار نہیں۔
کمانڈ پوسٹوں کی کمزوری کے ساتھ ساتھ دونوں رہنماؤں کے درمیان شدید باہمی عدم اعتماد بھی اس منصوبے کو متاثر کر رہا ہے۔ حسن نے سائبر حملوں کے لیے ہیکرز بھرتی کیے جبکہ مخلوف پر معاشی بندشوں کے باعث مالی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔
دوسری طرف شامی حکومت نے حالیہ مہینوں میں مخلوف اور حسن سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد کو گرفتار کیا ہے۔ تارتوس کے گورنر کے مطابق ساحلی علاقوں میں ان کے عزائم ناکام بنانے کی بھرپور تیاری موجود ہے۔
فیلڈ کمانڈروں کے بقول اگرچہ اسلحہ موجود ہے مگر ابھی تک کوئی واضح فریق ظاہر نہیں ہوا جس کے لیے یہ قوت استعمال کی جائے۔ یوں شام کا ساحل ایک نئی مگر کمزور ہوتی بغاوت کے احتمال کی زد میں ہے، جبکہ ماسکو میں موجود دونوں سابق بااثر شخصیات اپنے اپنے وقت کا انتظار کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بشارالاسد کے کمال حسن اور کے مطابق حکومت کے بنانے کی ہیں اور رہے ہیں کے بعد کے لیے شام کے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب