آسٹریلیا نے افغان طالبان پر مالی اور سفری پابندیاں عائد کردیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
آسٹریلیا نے افغانستان میں خواتین اور بچیوں کے حقوق کی بگڑتی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے طالبان حکومت کے 4 سینئر اہلکاروں پر مالی اور سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
عالمی میڈیا کے مطابق آسٹریلیا نے طالبان حکومت کے چار اعلیٰ عہدیداروں پر پابندیاں نافذ کی ہیں، جن میں تین وزراء اور طالبان کے نامزد چیف جسٹس شامل ہیں۔ کینبرا نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ عہدیدار افغانستان میں خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق کو محدود کرنے اور اچھے طرزِ حکمرانی کو متاثر کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ پیّنی وونگ نے اپنے بیان میں کہا کہ طالبان کی موجودہ پالیسیوں نے خواتین کی تعلیم، ملازمت، آزادانہ نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں شرکت کو سخت متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق پابندیوں کا مقصد طالبان پر براہِ راست دباؤ بڑھانا اور افغان عوام کے حقوق کے لیے کھڑے ہونا ہے۔
یہ اقدامات آسٹریلیا کے نئے قانونی فریم ورک کے تحت اٹھائے گئے ہیں، جس کے ذریعے حکومت خودمختار طور پر مخصوص افراد اور اداروں پر پابندی لگا سکتی ہے تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جواب دیا جا سکے۔
یاد رہے کہ طالبان کا موقف ہے کہ وہ اسلامی قانون اور مقامی روایات کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔ طالبان نے 2021 میں دوبارہ اقتدار سنبھالا تو خواتین اور بچیوں کی تعلیم اور کام کرنے پر سخت پابندیاں نافذ کی گئیں، جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
آسٹریلیا بھی ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اگست 2021 میں افغانستان سے اپنی فوجیں نکالیں، جہاں وہ دو دہائیوں تک نیٹو کے زیرِ قیادت مشن کا حصہ رہا۔ طالبان کے دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد آسٹریلیا نے ہزاروں افغان شہریوں زیادہ تر خواتین اور بچوں کو بطور اپنے یہاں پناہ دی۔
آج بھی افغانستان کی بڑی آبادی بنیادی ضروریات کے لیے انسانی امداد پر انحصار کر رہی ہے، جبکہ عالمی برادری طالبان سے خواتین کے حقوق بحال کرنے کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خواتین اور کے حقوق
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔