سری لنکا میں طوفان دتواہ سے تباہی، پاک بحریہ نے امدادی کارروائیاں شروع کردیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سری لنکا میں آنے والے تباہ کن سمندری طوفان، بارشوں کے بعد پاک بحریہ کے عملے نے امدادی کارروائیوں کا آغاز کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاک بحریہ کا جہاز سیف انٹرنیشنل فلیٹ ریویو 2025 میں شرکت کیلیے کولمبو کی بندرگاہ پر موجود تھا کہ اس دوران سمندری طوفان دتواہ نے تباہی مچا دی۔
سمندری طوفان دتواہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی طوفانی بارشوں اور تباہ کن صورتحال کے بعد پاک بحریہ نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے سری لنکن عوام کے لیے فوری طور پر امدادی کاروائیاں شروع کر دیں۔
ترجمان پاک بحریہ کے مطابق متاثرہ آبادی کی فوری ضروریات کے پیش نظر، پی این ایس سیف نے امدادی سامان سری لنکن حکام کے حوالے کیا تاکہ جاری امدادی سرگرمیوں اور بے گھر اور متاثرہ خاندانوں کی بروقت معاونت یقینی بنائی جا سکے۔
اعلامیے کے مطابق امدادی سامان میں غذائی اشیاء، تیارکھانا (MREs)، خشک راشن، فرسٹ ایڈ کٹس، ایمرجنسی ادویات اور ضروری آلات شامل تھے۔ جاری امدادی سرگرمیوں کے تسلسل میں، پاک بحریہ حالات کی ضرورت کے مطابق مزید معاونت کی فراہمی جاری رکھے گی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی این ایس سیف کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ بروقت امدادی کوششں پاک بحریہ کے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی ادائیگی، علاقائی امن و استحکام کے فروغ اور مشکل حالات میں دوست ممالک کے ساتھ یکجہتی کے جذبے کی عملی عکاسی کرتی ہے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر سری لنکا پہلی امدادی کھیپ اور آرمی ٹیم بھیجنے کے انتظامات مکمل
دوسری جانب وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر این ڈی ایم اے نے سری لنکا کے سیلاب زدگان کیلیے پہلی امدادی کھیپ اور آرمی سرچ ریسکیو ٹیم بھیجنے کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
این ڈی ایم اے کی طرف سے پہلی امدادی کھیپ میں سری لنکا کیلئے 100 ٹن پر مشتمل امدادی سامان بھیجا جائے گا، پاکستان آرمی کے تعاون سے کل 45 رکنی آرمی کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم بھی روانہ ہوگی۔
اعلامیے کے مطابق این ڈی ایم اے نے کل نور خان ایئر بیس سے سی 130 طیارے کے ذریعے سامان اور ریسکیو ٹیم بھجوانے کے انتظامات مکمل کر لیے، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹنینٹ جنرل انعام حیدر امدادی سامان کی روانگی کی نگرانی کریں گے۔
100 ٹن امدادی سامان میں ریسکیو کشتیاں، پمپس، لائف جیکٹس، ٹینٹ، کمبل، دودھ، خوراک اور ادویات شامل ہیں جبکہ سیلاب متاثرین کیلئے فلیڈ اسپتال بھی بھیجے جائیں گے۔
پاکستان سری لنکا کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے امدادی سامان کی ترسیل جاری رکھے گا۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈی ایم اے پاک بحریہ کے مطابق سری لنکا
پڑھیں:
وائٹ ہاؤس کے قریب افغان دہشتگرد کا حملہ، ایف بی آئی نے تحقیقات شروع کر دیں
وائٹ ہاؤس سے چند بلاکس کے فاصلے پر نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات ایف بی آئی کی جوائنٹ ٹیررزم ٹاسک فورس نے شروع کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وائٹ ہاؤس کے نزدیک فائرنگ، نیشنل گارڈ کے 2 اہلکار شدید زخمی، مشتبہ افغان حملہ آور گرفتار
رائٹرز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ حملہ گھات لگا کر کیا گیا اور یہ واقعہ تھینکس گیونگ سے ایک روز قبل پیش آیا۔
حملے میں 2 اہلکار شدید زخمیحملے میں شدید زخمی ہونے والے دونوں نیشنل گارڈ اہلکار اس مشن کا حصہ تھے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات پر دارالحکومت میں قانون نافذ کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ دونوں اہلکاروں کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔
گولیوں کے تبادلے میں زخمی ہونے والے اور بعد ازاں گرفتار کیے گئے حملہ آور کی شناخت محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے رحمان اللہ لکنوال کے نام سے کی۔ مذکورہ دہشتگرد افغان نژاد ہے اور 2021 میں Operation Allies Welcome پروگرام کے تحت امریکا آیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق لکنوال افغان فوج میں 10 سال تک خدمات انجام دے چکا ہے اور قندھار میں امریکی اسپیشل فورسز کے ساتھ تعینات رہا۔
اس کے ایک رشتے دار کے مطابق وہ آخری بار ایمیزون میں ملازم تھا۔
مزید پڑھیے: وائٹ ہاؤس کے نزدیک نیشنل گارڈز پر فائرنگ کرنیوالا رحمان اللہ لکنوال کون ہے؟
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق لکنوال نے دسمبر 2024 میں امریکا میں پناہ کی درخواست دی تھی جو 23 اپریل کو منظور ہوئی۔
صدر ٹرمپ کا سخت ردِعملصدر ٹرمپ، جو حملے کے وقت فلوریڈا میں تھے، نے ایک ویڈیو بیان میں اسے شر انگیزی، نفرت اور دہشتگردی کا عمل قرار دیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ بائیڈن دور میں آنے والے تمام افغان شہریوں کی سیکیورٹی جانچ پڑتال دوبارہ کی جائے گی۔
اسی دوران یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ غیر معینہ مدت تک کے لیے روک دی۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟فائرنگ دوپہر کے وقت ایک مصروف علاقے میں سب وے اسٹیشن کے باہر ہوئی۔
مزید پڑھیں: کیا امریکیوں پر حملہ آور افغان دہشتگرد سی آئی اے کے لیے خدمات انجام دیتا رہا؟
پولیس کے مطابق حملہ آور اچانک ایک کونے سے نکلا، اس نے ہتھیار نکالا اور نیشنل گارڈ اہلکاروں پر براہ راست فائرنگ کر دی۔
جوابی کارروائی میں وہ زخمی ہوا اور دیگر گارڈ اہلکاروں نے اسے حراست میں لے لیا۔
حملے کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس کو سیکیورٹی لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔
مزید فوج تعینات کرنے کی درخواستوزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق صدر نے واشنگٹن ڈی سی میں پہلے سے تعینات 2 ہزار نیشنل گارڈ اہلکاروں کے علاوہ مزید 500 فوجی بھیجنے کی درخواست کی ہے۔
سیاسی ردعملنائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ واقعہ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کی درستگی ثابت کرتا ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی پالیسی ضرورت سے زیادہ سخت ہے اور بعض قانونی تارکین وطن کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مقامی انتظامیہ کا مؤقفواشنگٹن ڈی سی کی میئر میوریل باؤزر نے اسے ٹارگٹڈ شوٹنگ قرار دیا۔
میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق دہشتگرد حملہ آور اکیلا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل کر دیں
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک وفاقی جج نے چند روز قبل نیشنل گارڈ اہلکاروں کو میئر کی اجازت کے بغیر قانون نافذ کرنے کے اختیارات دینے کے حکومتی فیصلے پر عارضی پابندی لگائی تھی جس کا نفاذ دسمبر تک مؤخر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان دہشتگرد رحمان اللہ لکنوال رحمان اللہ لکنوال وائٹ ہاؤس حملہ