Nawaiwaqt:
2025-11-29@21:45:49 GMT

بیگم آف جونا گڑھ مسرت جہاں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیں

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

بیگم آف جونا گڑھ مسرت جہاں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیں

نائب دیوان جونا گڑھ کا کہنا ہے کہ بیگم آف جونا گڑھ مسرت جہاں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیں۔

بیگم آف جونا گڑھ، تحریک پاکستان کی نامور خواتین میں شمار ہوتی تھی۔

.

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: جونا گڑھ

پڑھیں:

وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا دس گھنٹے طویل دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ

راولپنڈی میں خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کا دس گھنٹے طویل دھرنا مشاورتی اجلاس کے بعد ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ نمازِ فجر کے فوراً بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان علامہ ناصر عباس کی آمد اور اُن سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔ اجلاس میں علامہ ناصر عباس، محمود خان اچکزئی، سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی نے شرکت کی، جس میں فیصلہ ہوا کہ کارکنوں کو منگل کے روز دوبارہ احتجاج کے لیے کال دی جائے گی جبکہ آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بھی دائر کی جائے گی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں بھی بھرپور احتجاج کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ مشاورت کے بعد محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس دھرنے کے مقام سے روانہ ہوگئے جبکہ وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی سرد موسم میں سڑک کنارے آگ کے پاس بیٹھے رہے۔
محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ دھرنا کسی منصوبہ بندی کا حصہ نہیں تھا بلکہ وزیرِاعلیٰ کے اس یقین کے بعد سامنے آیا کہ عدالتیں ایک صوبائی سربراہ کو اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت دیں گی، مگر یہاں شرافت کی زبان سمجھنے والا کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے ایک جمہوری پشتون کی حیثیت سے دھرنا دیا ہے اور یہ ممکنہ طور پر عدالتی حکم تک جاری رہے گا۔ انہوں نے حکمرانوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’پانچ ہزار تین سو ارب کے چور‘‘ اور ’’مینڈیٹ چور‘‘ قرار دیا اور پی ٹی آئی قیادت کو تجویز دی کہ اگر بانی چیئرمین کی بہنوں کی ملاقات کرانی ہے تو عوامی طاقت کے ذریعے پارلیمنٹ اور سینیٹ کی کارروائی روک دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ بانی چیئرمین جیل میں ہیں اور ہم اسمبلیوں میں کارروائی چلنے دیں۔
وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق عدالت کے واضح حکم کے باوجود نہ انہیں اور نہ دیگر رہنماؤں کو بانی چیئرمین سے ملنے دیا گیا، جبکہ پہلے ان کی بہنوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا گیا اور انہیں اڈیالہ روڈ پر بالوں سے پکڑ کر بے عزت کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب بانی چیئرمین کو دباؤ میں لانے کے لیے کیا جا رہا ہے اور بشریٰ بی بی کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ماضی میں لندن جانے والوں سے درجنوں لوگ ملاقات کرتے تھے۔ انہوں نے عدلیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتیں اپنے ہی احکامات پر عملدرآمد نہیں کرواتیں تو ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہو جائے گا اور ہر کوئی اپنا انصاف خود کرنے لگے گا جس سے ملک کو شدید نقصان پہنچے گا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ فجر کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کریں گے اور انہیں بتائیں گے کہ تین ججز پہلے ہی ملاقات کی اجازت سے متعلق واضح حکم دے چکے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پشاور میں فائرنگ سے عالم دین کمسن بیٹے سمیت جاں بحق
  • وہ خطے جہاں خلائی اجسام گرنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے
  • ریمبو سے شادی نہ کروانے پر صاحبہ نے خودکشی کی دھمکی دی تھی، نشو بیگم
  • وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا دس گھنٹے طویل دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ
  • وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا دس گھنٹے طویل دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ
  • ظلم نہیں عدل و انصاف کی جہاں گیری
  • وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کی والدہ انتقال کرگئیں؛وزیر اعظم وسپیکر کا اظہار افسوس
  • چینی روبوٹ نے گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کرلیا
  • چمن سرحد کی طویل بندش، افغانستان کو ادویات اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا