Islam Times:
2026-07-24@09:19:52 GMT

نیا مشرق وسطیٰ اور گریٹر اسرائيل، ایک ہی سکے کے دو رخ

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

نیا مشرق وسطیٰ اور گریٹر اسرائيل، ایک ہی سکے کے دو رخ

اسلام ٹائمز: امریکہ و اسرائیل کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں رچایا جانے والا نیا کھیل انتہائی خطرناک ہے، اس کھیل میں کئی مسلم ممالک مقاومت کیخلاف کھڑے ہوکر نئے مشرق وسطیٰ کے نام پر دراصل گریٹر اسرائیل منصوبہ کا باقاعدہ حصہ بن رہے ہیں۔ تاہم رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے جمعرات کے روز کئے گئے خطاب نے یقینی طور پر امریکہ و اسرائیل، دونوں کے کئی منصوبوں پر نہ صرف پانی پھیرا ہے بلکہ دنیا بھر کی مقاومت و مزاحمتی قوتوں میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔ رپورٹ: سید شاہریز علی

نیا مشرق وسطیٰ اور اسرائیل سے تعلقات جیسے الفاظ سے بظاہر تعاون اور ترقی کا وعدہ سمجھ میں آتا ہے، لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ یہ چیزیں ان جغرافیائی اور سیاسی افقوں کو تیار کرنے کے لیے ایک خوبصورت بہانہ ہیں، جس کا عملی ترجمہ "گریٹر اسرائیل" ہے۔ اس منصوبے کا اصل مقصد نہ صرف مزاحمتی محاذ ہے بلکہ عربی اور اسلامی دنیا کی سیاسی، معاشی اور ثقافتی خود مختاری اور آخر میں اس کا خاتمہ اور تقسیم ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے، جس کے اثرات فلسطین، شام، مصر اور اردن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سرحدوں، ذخائر کی ملکیت اور مغرب کے مطلوبہ علاقائی نظام کی نئی تعریف پر منتج ہوں گے۔ امریکا اور مغرب بارہا کوشش کرچکے ہیں کہ خطے کے سلامتی کے نظام کو بدل کر اپنے جیو اسٹریٹجک منصوبوں کو مغربی ایشیا میں نافذ کر دیں، لیکن ہر بار وہ ناکام رہے ہیں اور ان کی کارروائیوں سے مزاحمتی محاذ کی تقویت ہوئی ہے، جیسے 11 ستمبر کے بہانے خطے پر امریکا کی لشکر کشی، 2011ء سے 2015ء کے درمیان اسلامی بیداری کا غلط استعمال اور اب طوفان الاقصیٰ کے دور میں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نئے مشرق وسطیٰ کا تصور اور گریٹر اسرائیل کا منصوبہ پوری طرح سے ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں اور دونوں ایک دوسرے کی تقویت کرتے ہیں۔ اسرائیل سے تعلقات کا قیام، ان دو نئے نوآبادیاتی پروجیکٹس کے عملی جامہ پہننے کا پہلا قدم ہے۔ طوفان الاقصیٰ کے بڑے کارناموں میں سے ایک، مزاحمت کے دائرے کو وسیع کرنا اور اس کے پہلوؤں کو بڑھانا ہے۔ آج مزاحمت صرف ایران، عراق، لبنان، فلسطین اور یمن تک محدود نہیں ہے بلکہ اول تو اس نے عالمی پہلو اختیار کر لیا ہے اور اس میں قانونی، سیاسی، شہری، میڈیا اور ثقافتی میدان بھی شامل ہوگئے ہیں اور دوسرے یہ کہ خطے کے ممالک کے خلاف صیہونی حکومت کے کھلے اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ اس توسیع پسندی کے مقابلے میں "مزاحمت" کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے، چاہے خطے کے بعض ممالک اپنے سیاسی اور سکیورٹی تحفظات کی بنا پر باضابطہ طور پر خود کو "مزاحمتی محاذ" کی تعریف میں شامل نہ کریں۔

اس کے علاوہ تفرقہ سامراج کا روایتی حربہ ہے، جسے آج مغرب نئے رنگ، نئے موضوعات اور نئے تصورات کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔ پھوٹ سے بچنے اور بیرونی بحرانوں اور دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی اور مقامی اسٹریٹیجیز کی تیاری کے لیے خطے کی حکومتوں کے درمیان سیاسی، معاشی اور سلامتی کے میدانوں میں ہم آہنگی کے اقدامات، بھلے ہی چھوٹے کیوں نہ ہوں، ان ضروریات میں سے ہیں، جن سے خطے کے رہنماء واقف ہیں، چاہے وہ اس کا اعتراف کرنے سے گریز کریں۔ نئے مشرق وسطیٰ جیسے منصوبے جن میں علاقائی نظام کی مغربی سوچ پوشیدہ ہے اور جو اسلامی اقوام کی فکری و ثقافتی خود مختاری کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں، درحقیقت "گریٹر اسرائیل" کے منصوبے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ اس عمل کے مقابلے میں، آگہی کا دائرہ بڑھانے اور بیانیوں کی جنگ کا اہم کردار ہے۔ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی جیسے منصوبوں کے پوشیدہ مقاصد کو بے نقاب کرنا، تاریخ کو دوبارہ بیان کرنا اور سامراج اور غاصبانہ قبضے کے برسوں کے تجربات کو یاد دلانا۔

جو آج نئی شکلوں میں جاری ہیں اور اسی طرح پیشرفت، امن اور منصفانہ بقائے باہمی کے بارے میں مقامی خیالات و افکار کو فروغ دینا، اس سلسلے میں بہت مؤثر ہوسکتا ہے۔ نیا اسلامی تمدن، ایسا اسلامی نمونہ، مغرب زدہ "نئے مشرق وسطیٰ" کے منصوبے کا متبادل ہے۔ نئے اسلامی تمدن کا مطلب یہ ہے کہ مسلم اقوام، مغرب کے مسلط کردہ نمونوں کی نقل کرنے کے بجائے اپنے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی مشترکات پر بھروسہ کرتے ہوئے پیشرفت، علم، ٹیکنالوجی، انصاف اور سلامتی کا راستہ اپنے اسلامی اقدار کی بنیاد پر طے کریں، بغیر اس کے کہ ان کے قومی تحفظات اور اقدار مجروح ہوں۔ ایسا تمدن نہ صرف "گریٹر اسرائیل" جیسے منصوبوں کے فکری و ثقافتی نفوذ کو روکتا ہے بلکہ اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کے نیٹ ورک قائم کرکے سافٹ پاور اور حقیقی علاقائی یکجہتی پیدا کرتا ہے۔ ایسا نظام جس میں امن اور پیشرفت کا سرچشمہ، اقوام کی آزادی اور عزت ہے، نہ کہ باہری طاقتوں کی مسلط کردہ پالیسیاں۔

امریکہ و اسرائیل کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں رچایا جانے والا نیا کھیل انتہائی خطرناک ہے، اس کھیل میں کئی مسلم ممالک مقاومت کیخلاف کھڑے ہوکر نئے مشرق وسطیٰ کے نام پر دراصل گریٹر اسرائیل منصوبہ کا باقاعدہ حصہ بن رہے ہیں۔ تاہم رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے جمعرات کے روز کئے گئے خطاب نے یقینی طور پر امریکہ و اسرائیل، دونوں کے کئی منصوبوں پر نہ صرف پانی پھیرا ہے بلکہ دنیا بھر کی مقاومت و مزاحمتی قوتوں میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔ رہبر انقلاب نے درحقیقت جہاں اس بارہ روزہ جنگ کے تناظر میں واشنگٹن و صیہونی ناجائز ریاست کی طاقت کے بت کی حقیقت بیان کی، وہیں مشرق وسطیٰ میں کھیلے جانے والے نئی شیطانی کھیل کی طرف بھی متوجہ کیا۔ اب مسلم کی غیرت کا ایک اور امتحان ہے کہ وہ گریٹر اسرائیل کا حصہ بننے کی طرف جاتے ہیں یا اہل غزہ کیساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکہ و اسرائیل گریٹر اسرائیل ہیں اور ہے بلکہ اور اس خطے کے

پڑھیں:

اسلامی اقدار اور جدید دور

آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار