نیا مشرق وسطیٰ اور گریٹر اسرائيل، ایک ہی سکے کے دو رخ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: امریکہ و اسرائیل کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں رچایا جانے والا نیا کھیل انتہائی خطرناک ہے، اس کھیل میں کئی مسلم ممالک مقاومت کیخلاف کھڑے ہوکر نئے مشرق وسطیٰ کے نام پر دراصل گریٹر اسرائیل منصوبہ کا باقاعدہ حصہ بن رہے ہیں۔ تاہم رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے جمعرات کے روز کئے گئے خطاب نے یقینی طور پر امریکہ و اسرائیل، دونوں کے کئی منصوبوں پر نہ صرف پانی پھیرا ہے بلکہ دنیا بھر کی مقاومت و مزاحمتی قوتوں میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔ رپورٹ: سید شاہریز علی
نیا مشرق وسطیٰ اور اسرائیل سے تعلقات جیسے الفاظ سے بظاہر تعاون اور ترقی کا وعدہ سمجھ میں آتا ہے، لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ یہ چیزیں ان جغرافیائی اور سیاسی افقوں کو تیار کرنے کے لیے ایک خوبصورت بہانہ ہیں، جس کا عملی ترجمہ "گریٹر اسرائیل" ہے۔ اس منصوبے کا اصل مقصد نہ صرف مزاحمتی محاذ ہے بلکہ عربی اور اسلامی دنیا کی سیاسی، معاشی اور ثقافتی خود مختاری اور آخر میں اس کا خاتمہ اور تقسیم ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے، جس کے اثرات فلسطین، شام، مصر اور اردن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سرحدوں، ذخائر کی ملکیت اور مغرب کے مطلوبہ علاقائی نظام کی نئی تعریف پر منتج ہوں گے۔ امریکا اور مغرب بارہا کوشش کرچکے ہیں کہ خطے کے سلامتی کے نظام کو بدل کر اپنے جیو اسٹریٹجک منصوبوں کو مغربی ایشیا میں نافذ کر دیں، لیکن ہر بار وہ ناکام رہے ہیں اور ان کی کارروائیوں سے مزاحمتی محاذ کی تقویت ہوئی ہے، جیسے 11 ستمبر کے بہانے خطے پر امریکا کی لشکر کشی، 2011ء سے 2015ء کے درمیان اسلامی بیداری کا غلط استعمال اور اب طوفان الاقصیٰ کے دور میں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نئے مشرق وسطیٰ کا تصور اور گریٹر اسرائیل کا منصوبہ پوری طرح سے ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں اور دونوں ایک دوسرے کی تقویت کرتے ہیں۔ اسرائیل سے تعلقات کا قیام، ان دو نئے نوآبادیاتی پروجیکٹس کے عملی جامہ پہننے کا پہلا قدم ہے۔ طوفان الاقصیٰ کے بڑے کارناموں میں سے ایک، مزاحمت کے دائرے کو وسیع کرنا اور اس کے پہلوؤں کو بڑھانا ہے۔ آج مزاحمت صرف ایران، عراق، لبنان، فلسطین اور یمن تک محدود نہیں ہے بلکہ اول تو اس نے عالمی پہلو اختیار کر لیا ہے اور اس میں قانونی، سیاسی، شہری، میڈیا اور ثقافتی میدان بھی شامل ہوگئے ہیں اور دوسرے یہ کہ خطے کے ممالک کے خلاف صیہونی حکومت کے کھلے اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ اس توسیع پسندی کے مقابلے میں "مزاحمت" کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے، چاہے خطے کے بعض ممالک اپنے سیاسی اور سکیورٹی تحفظات کی بنا پر باضابطہ طور پر خود کو "مزاحمتی محاذ" کی تعریف میں شامل نہ کریں۔
اس کے علاوہ تفرقہ سامراج کا روایتی حربہ ہے، جسے آج مغرب نئے رنگ، نئے موضوعات اور نئے تصورات کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔ پھوٹ سے بچنے اور بیرونی بحرانوں اور دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی اور مقامی اسٹریٹیجیز کی تیاری کے لیے خطے کی حکومتوں کے درمیان سیاسی، معاشی اور سلامتی کے میدانوں میں ہم آہنگی کے اقدامات، بھلے ہی چھوٹے کیوں نہ ہوں، ان ضروریات میں سے ہیں، جن سے خطے کے رہنماء واقف ہیں، چاہے وہ اس کا اعتراف کرنے سے گریز کریں۔ نئے مشرق وسطیٰ جیسے منصوبے جن میں علاقائی نظام کی مغربی سوچ پوشیدہ ہے اور جو اسلامی اقوام کی فکری و ثقافتی خود مختاری کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں، درحقیقت "گریٹر اسرائیل" کے منصوبے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ اس عمل کے مقابلے میں، آگہی کا دائرہ بڑھانے اور بیانیوں کی جنگ کا اہم کردار ہے۔ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی جیسے منصوبوں کے پوشیدہ مقاصد کو بے نقاب کرنا، تاریخ کو دوبارہ بیان کرنا اور سامراج اور غاصبانہ قبضے کے برسوں کے تجربات کو یاد دلانا۔
جو آج نئی شکلوں میں جاری ہیں اور اسی طرح پیشرفت، امن اور منصفانہ بقائے باہمی کے بارے میں مقامی خیالات و افکار کو فروغ دینا، اس سلسلے میں بہت مؤثر ہوسکتا ہے۔ نیا اسلامی تمدن، ایسا اسلامی نمونہ، مغرب زدہ "نئے مشرق وسطیٰ" کے منصوبے کا متبادل ہے۔ نئے اسلامی تمدن کا مطلب یہ ہے کہ مسلم اقوام، مغرب کے مسلط کردہ نمونوں کی نقل کرنے کے بجائے اپنے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی مشترکات پر بھروسہ کرتے ہوئے پیشرفت، علم، ٹیکنالوجی، انصاف اور سلامتی کا راستہ اپنے اسلامی اقدار کی بنیاد پر طے کریں، بغیر اس کے کہ ان کے قومی تحفظات اور اقدار مجروح ہوں۔ ایسا تمدن نہ صرف "گریٹر اسرائیل" جیسے منصوبوں کے فکری و ثقافتی نفوذ کو روکتا ہے بلکہ اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کے نیٹ ورک قائم کرکے سافٹ پاور اور حقیقی علاقائی یکجہتی پیدا کرتا ہے۔ ایسا نظام جس میں امن اور پیشرفت کا سرچشمہ، اقوام کی آزادی اور عزت ہے، نہ کہ باہری طاقتوں کی مسلط کردہ پالیسیاں۔
امریکہ و اسرائیل کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں رچایا جانے والا نیا کھیل انتہائی خطرناک ہے، اس کھیل میں کئی مسلم ممالک مقاومت کیخلاف کھڑے ہوکر نئے مشرق وسطیٰ کے نام پر دراصل گریٹر اسرائیل منصوبہ کا باقاعدہ حصہ بن رہے ہیں۔ تاہم رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے جمعرات کے روز کئے گئے خطاب نے یقینی طور پر امریکہ و اسرائیل، دونوں کے کئی منصوبوں پر نہ صرف پانی پھیرا ہے بلکہ دنیا بھر کی مقاومت و مزاحمتی قوتوں میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔ رہبر انقلاب نے درحقیقت جہاں اس بارہ روزہ جنگ کے تناظر میں واشنگٹن و صیہونی ناجائز ریاست کی طاقت کے بت کی حقیقت بیان کی، وہیں مشرق وسطیٰ میں کھیلے جانے والے نئی شیطانی کھیل کی طرف بھی متوجہ کیا۔ اب مسلم کی غیرت کا ایک اور امتحان ہے کہ وہ گریٹر اسرائیل کا حصہ بننے کی طرف جاتے ہیں یا اہل غزہ کیساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکہ و اسرائیل گریٹر اسرائیل ہیں اور ہے بلکہ اور اس خطے کے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔