خیبر پختونخوا: پاک فوج کی دو علیحدہ کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 9 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
خیبر پختونخوا میں پاک فوج کی دو علیحدہ کارروائیوں کے دوران بھارتی حمایت یافتہ تنظیم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 9 خوارج ہلاک ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ٹانک ڈسٹرکٹ میں گزشتہ روز 5 دسمبر کو خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے ایک انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی انجام دی۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد سات خوارج ہلاک ہو گئے۔
دوسری انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی لکی مروت ڈسٹرکٹ میں کی گئی جس میں مزید دو خوارج سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں انجام کو پہنچ گئے۔
ہلاک شدہ بھارتی حمایت یافتہ خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا جو سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معصوم شہریوں کے خلاف متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
علاقے میں موجود کسی بھی دیگر بھارتی حمایت یافتہ خوارج کو ختم کرنے کے لیے کلیرنس آپریشن جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی حمایت یافتہ سکیورٹی فورسز
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔