مسئلہ کشمیر کو فوجی طاقت سے نہیں، حق خودارادیت کے اصول کی بنیاد پر ہی حل کیا جا سکتا ہے، حریت کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی بیش بہا قربانیوں کو وجہ سے مسئلہ کشمیر دنیا میں توجہ کا مرکز بن چکا ہے اور عالمی برادری اس مسئلے کی حساسیت کی وجہ سے اس کے فوری طور پر حل زور دے رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے آزادی کی جدوجہد میں مصروف کشمیریوں پر بھارتی مظالم میں تیزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر خالصتاً ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے فوجی طاقت سے نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارادیت کے اصول کی بنیاد پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے ایک بیان میں کہا کہ کشمیری اپنے ناقابل تنسیخ حق، حق خودارادیت کیلئے قربانیوں کی ایک عظیم تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی بیش بہا قربانیوں کو وجہ سے مسئلہ کشمیر دنیا میں توجہ کا مرکز بن چکا ہے اور عالمی برادری اس مسئلے کی حساسیت کی وجہ سے اس کے فوری طور پر حل زور دے رہی ہے۔ حریت ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت نے اظہار رائے کی آزادی کے حق سمیت کشمیریوں کے تمام حقوق سلب کر رکھے ہیں، اس نے حریت رہنماﺅں، کارکنوں، وکلا، سول سوسائٹی اور حقوق کے کارکنوں، علماء اور صحافیوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو جیلوں اور تعذیب خانوں میں بند کر رکھا ہے اور وہ مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ترجمان نے تمام کشمیری سیاسی نظربندوں کے عزم و ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی لازوال قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور جموں و کشمیر بھارتی تسلط سے آزاد ہو کر رہے گا۔ ترجمان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے کردار ادا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔