حکومت عوامی مسائل سے غافل، اہم فیصلے طاقت کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں: اسد عمر
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے ملکی معاشی صورتحال، سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی بگڑتی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت عوامی مسائل سے غافل ہے جبکہ اہم فیصلے طاقت کے مراکز میں تقسیم کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیشی کے موقع پر اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدرِ مملکت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 243 اور آرمی ایکٹ کی شق 8 اے کے تحت جاری ترامیم کا عوام سے کوئی تعلق نہیں، یہ تمام تبدیلیاں طاقت کے نظام میں بٹوارے سے متعلق ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملکی اندرونی حالات انتہائی خراب ہیں، معیشت بالکل بیٹھ چکی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے خود اپنی معاشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ساڑھے تین سال بعد نئی معاشی کمیٹیاں بنانے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے بیرونی تعلقات میں بہتری آئی ہے اور مئی میں بھارت کو عبرتناک شکست ہوئی جبکہ امریکی کانگریس کی رپورٹ میں بھی پاکستان کے مؤقف کو درست قرار دیا گیا ہے تاہم اندرونی سطح پر حالات بگڑ رہے ہیں۔
اسد عمر کے مطابق 15 سال بعد دہشت گردی کے واقعات دوبارہ شدت سے شروع ہو گئے ہیں جبکہ سیاسی ماحول میں کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ایک صوبے میں گورنر راج لگانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر آنا ہوگا ورنہ صورتحال میں بہتری کی کوئی امید نہیں، جس امیدوار نے زیادہ ووٹ لیے اسی کے جیتنے کے قانون پر عمل درآمد ہونا چاہیے تاکہ سیاسی استحکام آ سکے۔
پیٹرول اور ڈیزل پر عائد بھاری ٹیکسوں پر بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے پہلے نو ماہ میں ایک ہزار ارب روپے سے زائد ٹیکس اکٹھا کیا ہے، موٹرسائیکل والوں پر ٹیکس ٹھوکا جا رہا ہے، باقی طبقوں پر قانون کون نافذ کرے گا؟
جلاؤ گھیراؤ مقدمات: اسد عمر اور اعظم سواتی کی عبوری ضمانت میں توسیع
قبل ازیں انسدادِ دہشت گردی عدالت میں 9 مئی جناح ہاؤس حملہ، عسکری ٹاور حملہ، تھانہ شادمان نذر آتش اور دیگر کیسز میں نامزد پی ٹی آئی رہنماؤں اسد عمر اور اعظم خان سواتی کی عبوری ضمانتوں پر سماعت ہوئی جہاں عدالت نے دونوں رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں 16 جنوری تک توسیع کر دی۔
پی ٹی آئی رہنما اعظم خان سواتی اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر حاضری کے لیے عدالت میں پیش ہوئے، کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کی۔
عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانتوں پر آئندہ سماعت پر دلائل طلب کر لیے۔
اسد عمر نے جناح ہاؤس حملہ، عسکری ٹاور حملہ اور تھانہ شادمان کو نذر آتش کرنے کے مقدمات میں عبوری ضمانت دائر کر رکھی ہے جبکہ اعظم خان سواتی نے جناح ہاؤس اور عسکری ٹاور حملہ سمیت دیگر مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں جمع کروا رکھی ہیں، پی ٹی آئی رہنماؤں پر بغاوت اور کارکنان کو جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے کے الزامات بھی عائد ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی عبوری ضمانت کرتے ہوئے
پڑھیں:
مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟
آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔
واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔
آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔
سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں