نومبر میں فتنہ الہندوستان کی دہشتگردی میں اضافہ‘ 54 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251203-01-12
اسلام آباد (مانیٹر نگ ڈ یسک ) پاکستان میں نومبر کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تاہم فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی حکمت عملیمیں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔دہشتگرد عام شہریوں نشانہ بنانے لگے ہیں کیونکہ یہ سافٹ ٹارگٹس کے طور پر استعمال کیے جارہے ہیں، نومبر کے دوران عام شہریوں کی اموات میں واضح اضافہ سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب سیکورٹی فورسز نے سخت کارروائیاں کی ہیں اور نومبر فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کیلیے ایک مہلک ترین مہینہ ثابت ہوا ہے اور سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 206 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔اسلام آباد میں موجود دہشت گردی پر کام کرنے والے تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز (پکس) نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ نومبر میں ملک بھر میں دہشت گردی کے 97 واقعات رپورٹ ہوئے، اکتوبر میں ایسے حملوں کی تعداد 89 تھی۔ عام شہریوں کی اموات میں اکتوبر کے مقابلے نومبر میں 80 فیصد اضافہ ہوا، نومبر میں دہشتگردی سے 54 عام شہری جاں بحق ہوئے جو اکتوبر میں 30 تھے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشتگرد آسان اہداف کے پیچھے جا رہے ہیں۔اس کے علاوہ نومبر میں دہشتگردی سے 25 سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور 7 امن کمیٹیوں کے ارکان جاں بحق ہوئے، نومبر میں دہشت گردی سے 83 سیکورٹی اہلکار، 67 عام شہری اور امن کمیٹیوں کے 4 ارکان زخمی ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔